تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 471
آپ پر اپنا کلام نازل کرے اور آپ کو اس کا پہلا مخاطب قرار دے۔پس آپ کی جو روحانی اور اخلاقی اور دماغی فضیلت تھی اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اپنا کلام آپ پر پہلی دفعہ نازل کیا۔لیکن جب وہ نازل ہو گیا تو اس کے بعد میرے لئے، اس تفسیر کے پڑھنے والوں کے لئے اور باقی سب دنیا کے لئے وہ ویسا ہی ہو گیا جیسے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھا۔اس شانِ نزول کے مخمصہ سے تنگ آکر رازی اور بعض دوسرے علماء نے کہا ہے کہ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ شانِ نزول کیا ہے بلکہ دیکھا یہ جائے گا کہ آیت کا مطلب کیا ہے(تفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ) مگر میں کہتا ہوں کہ جیسا کہ اوپر ثابت کیا جا چکا ہے خود شانِ نزول کے معنے سمجھنے میں لوگوں نے غلطی کھائی ہے ورنہ ان الفاظ کے اور معنے ہیں اور ان کے رو سے آیت کا مفہوم محدود ہوتا ہی نہیں۔اب میں ان روایات کے مضمون کو لیتا ہوں بعض راوی کہتے ہیں ابوجہل نے اور بعض کہتے ہیں عاص بن وائل نے ایک اونٹ ذبح کیا تو ایک یتیم کچھ گوشت مانگنے کے لئے آگیا۔اس پر اس نے یتیم کو سونٹا مارا۔آخر اونٹ اس نے خود تو نہیں کھانا تھا بہرحال اس کا گوشت اس نے تقسیم ہی کرنا تھا مگر اس نے تقسیم ان لوگوں میں کرنا تھا جن میں تقسیم کرنے میں اس کی شہرت اور عزت میں زیادتی ہو۔پس جب وہ یتیم گوشت مانگنے کے لئے آیا تو وہ اسے خفا ہوا اور غصہ سے اس کو سونٹا مارا۔دوسری روایات میں جہاں اشخاص کے نام بدلے ہیں اعمال میں بھی اختلاف ہے جو ان سے ظاہر ہوئے۔مگر مفہوم ان سب روایات کا یہی ہے کہ ان لوگوں نے کسی نہ کسی طرح یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا تھا۔پس سب روایات کا خلاصہ یہی ہے کہ اس آیت کا مضمون ابوجہل پر بھی چسپاں ہوتا ہے، ولید بن مغیرہ پر بھی چسپاں ہوتا ہے، عاص بن وائل پر بھی چسپاں ہوتا ہے، عمر بن عائذ پر بھی چسپاں ہوتا ہے، مدینہ کے دو منافقوں پر بھی چسپاں ہوتا ہے، ابوسفیان بن حرب پر بھی چسپاں ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب لوگ بوجہ دینِ محمدی کی روح سے دور ہونے کے بخیل اور ظالم تھے اور اگر اوپر کی تشریح کے مطابق ان روایات کا مطلب سمجھا جائے تو یہ روایات بالکل درست ہیں۔بلکہ دس یا بارہ کی بھی شرط نہیں یہ مضمون تو لاکھوں پر چسپاں ہو سکتا ہے۔اس زمانہ کو ہی دیکھ لو دنیا کی دو ارب آبادی میں سے اگر وہ لوگ تلاش کئے جائیں جو تکذیب دین کرنے والے ہیں تو ایک ارب سے زیادہ ایسے لوگ نکل آئیں گے جو علی الاعلان دین کا انکار کرتے ہیں۔پھر ساٹھ ستّر کروڑ ایسے لوگ نکل آئیں گے جو منہ سے تودین کا انکار نہیں کرتے مگر شامل وہ پہلے گروہ میں ہی ہیں۔باقی تیس کروڑ میں سے انتیس کروڑ سے بھی اوپر وہ لوگ نکلیں گے جو یوں تو انکار نہیں کرتے مگر عملاً وہ بھی دین کا انکار کرتے ہیں۔صحیح معنوں میں دین کو ماننے والا اور سچے دل سے