تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 468

سُوْرَۃُ الْمَاعُوْنِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ الماعون۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ سَبْعُ اٰیَاتٍ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَفِیْـہَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے سوا سات آیتیں ہیں اور ایک رکوع ہے سورۃ ماعون مکی سورۃ ہے یہ سورۃ سورۂ ماعون کہلاتی ہے اکثرعلماء کے نزدیک یہ سورۃ مکی ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور قتادہ کے نزدیک مدنی ہے۔ھبۃ اللہ جو قرآن کریم کے ایک بڑے مفسر گذرے ہیں ان کے نزدیک اس کا نصف مکی ہے اور نصف مدنی ہے۔نصف مکی ان کے نزدیک عاص بن وائل کی نسبت اترا ہے اور نصف مدنی ان کے نزدیک عبداللہ بن ابی ابن سلول کی نسبت اترا ہے(زاد المسیر فی علم التفسیر سورۃالماعون )۔مستشرقین میں سے نولڈکے اسے ابتدائی سالوں کی سورۃ قرار دیتا ہے اورمیور پانچویں سال کی قرار دیتا ہے(A Comprehensive Commentary on Quran vol:4 P:284) اور وہیری جسے شوق ہے کہ وہ کوئی بڑا محقق سمجھا جائے اور کوئی نئی بات پیش کرے یا نئی بات کی تائید کرے اس نے کہا ہے کہ میری رائے بھی ھبۃ اللہ کے مطابق ہے کہ یہ سورۃ آدھی مکی ہے اورآدھی مدنی ہے۔چونکہ اکثر مفسرین اور راوی اسے مکی قرار دیتے ہیں اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کی نسبت کوئی اور تحقیقات پیش کریں۔بے شک حضرت ابن عباسؓ جو صحابی ہیں ان کی روایت یہ ہے کہ یہ سورۃ مدنی ہے۔لیکن حضرت ابن عباسؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفا ت کے وقت کوئی تیرہ سال کے تھے اس لئے وہ جو کچھ بیان فرماتے ہیں اس میں سےننانوے فی صدی دوسروں سے سنا ہوتاہے جس میں غلطی کا امکان بھی ہو سکتاہے۔یوں بوجہ بہت زیرک ہونے کے اکثر اوقات ان کی رائے درست اور صحیح ہوتی ہے۔زمانۂ نزول کےمتعلق بعض دفعہ صحابہ اور تابعین نے اس امر سے بھی دھوکا کھایا ہے کہ اگر کسی آیت کے بارہ میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا کسی صحابی نے یہ کہہ دیا کہ یہ فلاں شخص کے بارہ میں نازل ہوئی تھی اگر وہ شخص مکی تھا تو انہوں نے قیاس کر لیا کہ وہ آیت یا سورۃ مکہ میں نازل ہوئی تھی اور اگر کسی مدینہ کے شخص کے بارہ میں روایت میں ایسے الفاظ آئے تو انہوںنے سمجھ لیا کہ وہ آیت یا سورۃ مدنی ہے۔پس اس سورۃ کے مضمون کو دیکھتے