تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 465
دوسروں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں یہی بات اس روایت کے متعلق معلوم ہوتی ہے۔بعضوں نے کہا ہے کہ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ میں اس قحط کی طرف اشارہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پڑا۔احادیث میں آتا ہے کہ جب قریش مکہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تنگ کیا اور سخت تکالیف پہنچائیں تو آپؐ نے دعا فرمائی کہ اَللّٰھُمَّ خُذْھُمْ بِسِنِیْـنَ کَسِنِی یُوْسُفَ یعنی اے اللہ تو ان لوگوں کو ویسے ہی پکڑ جیسے یوسف کے زمانہ میں تو نے لوگوں کو قحط سے پکڑا تھا(تفسیر عبد الرزاق سورۃ حٰمٓ الدّخان)۔اس پر مکہ میں ایک شدید قحط پڑا۔آخر وہی لوگ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید مخالف تھے انہوں نے آپ سے دعا کی درخواست کی۔چنانچہ آپ نے دعا کی جس پر کچھ اردگرد کے علاقہ میں بارشیں ہو گئیں۔کچھ حبشہ کی حکومت نے وہاں غلہ بھجوا دیا اور اس طرح قحط دور ہوا۔پس بعض لوگ کہتے ہیں کہ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ میں اسی قحط کی طرف اشارہ ہے۔مگر یہ درست نہیں۔اس لئے کہ واقعات سے یہ ثابت ہے کہ یہ سورۃ نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور وہ قحط جو مکہ میں پڑا وہ شعب ابی طالب میں محصور ہونے کے وقت پڑا۔پس یہ آیت جب پہلے نازل ہو چکی تھی تو قحط کا اس کے ساتھ تعلق کیا ہوا۔یہاں تواللہ تعالیٰ ان پر حجّت کرتا ہے کہ اس نے ان کے خوف کو امن سے بدل دیا۔جو چیز ابھی ظاہر ہی نہیں ہوئی تھی وہ ان کے لئے حجّت کس طرح ہو سکتی تھی۔بہرحال اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے خالی سفروں کی طرف اشارہ نہیں۔چنانچہ جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب خانۂ کعبہ کی بنیاد رکھی تھی تو اس وقت آپ نے ایک دعا فرمائی تھی جس کا اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں ذکر فرماتا ہے۔وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ(ابراھیم:۳۶)۔اسی طرح آپ نے یہ دعا کی تھی کہ رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْۤ اِلَيْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ (ابراهيم :۳۸) حضرت ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ اے خدا تو اس گھر کو امن والا بنائیو اور مجھے اور میری اولاد کو شرک سے بچائیو۔پھر کہتے ہیں اے خدا میں نے اپنی اولاد کو تیرے مکرم و محترم گھر کے پاس ایک ایسی جگہ لا کر بسا دیا ہے جہاں کوئی کھیتی باڑی نہیں ہوتی محض اس لئے کہ وہ نمازوں کو قائم کریں اور تیرے ذکر میں مشغول رہیں فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْۤ اِلَيْهِمْ۔پس اے خدا تو خود لوگوں کے دلوں میں تحریک کر کہ وہ ان کی طرف جھکیں وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَاور انہیں کھانے کے لئے ہر قسم کے پھل عنایت فرما تاکہ یہ تیرا شکر ادا کرتے رہیں۔