تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 464

یہ معنے ہوں گے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ بھوک اور مِنْ خَوْفٍ کے یہ معنے ہوں گے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ خوف۔یعنی ہم نے اتنی فراوانی اور کثرت کے ساتھ رزق دیا کہ مکہ والے چھوٹی سے چھوٹی بھوک سے بھی نجات پا گئے۔یہ خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل اور کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے مکہ والوں کو ایک ایسی خطرناک جگہ رکھ کر جہاں روٹی کا کوئی سامان نہ تھا ہر فرد کے لئے روٹی مہیا کر دی۔حقیقتاً اگر غور کیا جائے تو یہ بڑے بھاری انعام اور فضل کا ثبوت ہے کہ ایسے خطرناک مقام پر رکھ کر اس نے ہر ایک کو روٹی مہیا کی۔ہر ایک کو بافراغت رزق دیا۔یہاں تک کہ وہ ادنیٰ سے ادنیٰ بھوک کی تکلیف سے بھی محفوظ ہو گئے۔اسی طرح اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں کو ادنیٰ سے ادنیٰ خوف سے بھی نجات دی۔یعنی ابرہہ اور اس کے لشکر کو اس نے حرم کی حدود میں داخل ہی نہیں ہونے دیا باہر ہی اس کا خاتمہ کر دیا۔اگر وہ مکہ میں داخل ہو جاتا اور منجنیقوں سے پتھر برسانے لگتا تو کچھ نہ کچھ خوف اہلِ مکہ کو ضرور ہوتا جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب حجاج بن یوسف نے مکہ پر حملہ کیا تو روایات میں آتا ہے کہ ایک منجنیق کا پتھر خانۂ کعبہ کو بھی آلگا اور اس کا کچھ حصہ جل بھی گیا۔بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اگر وہ اسی طرح ہوا تھا تو حجاج نے جب حملہ کیا اس وقت خانہ کعبہ کا کچھ حصہ کیوں جل گیا تھا اور کیوں اس پر پتھر بھی آلگا اس کا جواب بعض لوگوں نے یہ دیا ہے کہ اس کی نیت خانۂ کعبہ کو پتھر مارنے کی نہیں تھی اتفاقی طور پر وہ اسے آلگا تھا۔دوسرے آگ فوراً بجھا دی گئی تھی اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔بہرحال جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اصحاب الفیل کی تباہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور ارہاص تھی اور خانۂ کعبہ کی حفاظت اپنی ذات میں اتنی مقصود نہیں تھی جتنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت مقصود تھی۔یہی وجہ ہے کہ جس شان سے اس وقت نشان ظاہر ہوا اس شان کا نشان بعد میں ظاہر نہیں ہوا۔بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس وقت اہل مکہ کو ادنیٰ سے ادنیٰ خوف سے بھی بچایا اور ابرہہ کو وہیں مار دیا۔حضرت علیؓ کے متعلق ایک روایت آتی ہے کہ انہوں نے کہا وَاٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ کے یہ معنے ہیں کہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی(تفسیر قرطبی زیر آیت ھذا)۔مگر یہ ایسی پھسپھسی بات ہے کہ میں مان ہی نہیں سکتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسا کہا ہو۔بعض اور مفسرین نے بھی لکھا ہے کہ یہ روایت حضرت علیؓ کی طرف یوں ہی منسوب کر دی گئی ہے(تفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت ھذا) کہ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ کے یہ معنے ہیں کہ کہیں خلافت قریش میں سے نہ چلی جائے۔اس پر ایک مؤرخ نے لطیفہ لکھا ہے کہ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ خلافت قریش میں سے نہیں جائے گی مگر آخر وہ چلی ہی گئی۔اصل بات یہ ہے کہ بعض لوگ اپنے پاس سے باتیں بنا کر