تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 453
جو ذمہ واریاں اصل پر عائد ہوتی ہیں وہی ذمہ واریاں ظِلّ پر بھی عائد ہوں گی۔پس ہماری جماعت جب ظلّی رنگ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی جماعت ہے اور ظِلِّ محمد پر ایمان لا کر ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں شامل ہو چکے ہیں تو ہمیں بھی ان آیات کا اپنے آپ کو ویسا ہی مخاطب سمجھنا پڑے گا جیسے صحابہؓ مخاطب تھے۔اور ہمیں بھی وہی کچھ کرنا پڑے گا جو صحابہؓ نے کیا۔اللہ تعالیٰ ان آیات میں زمانۂ محمدی کے لوگوں سے کہتا ہے فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ۔تم کو چاہیے کہ تم عبادتوں میں اپنا وقت لگاؤ اور ذکر الٰہی کی عادت ڈالو۔یہی کام احمدیوں کا ہے مگر افسوس ہے کہ احمدیوں نے اب تک اس مقام کو نہیں پایا کتنے احمدی ہیں جو اس معیار پر پورے اترتے ہیں بے شک دوسروں سے زیادہ چندہ دینے والے احمدی موجود ہیں مگر چندہ سے تو دین نہیں پھیلتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ دین کی ترقی تو نفس کی صفائی اور عبادت کی کثرت سے ہوتی ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ ذکر الٰہی اور عبادت کی طرف بہت ہی کم توجہ ہے۔فرض نمازیں بےشک وہ دوسروں سے زیادہ ادا کرتے ہیں مگر ذکر ِ الٰہی کرنا، مساجد میں بیٹھنا، راتوں کو اٹھ کر تہجد ادا کرنا، اعتکاف کرنا۔یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے اور جو نفس کی اصلاح کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتی ہیں۔مگرہماری جماعت کی توجہ ان کی طرف بہت کم ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعائیں کیں ان میں بھی آتا ہے کہ الٰہی تیرے لئے اعتکاف کرنے والے لوگ اور تیری عبادت میں اپنا وقت گذارنے والے لوگ میری اولاد میں ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ احمدیوں کو اس طرف بہت کم توجہ ہے حالانکہ جب تک ان باتوں کی طرف توجہ نہ ہو انسان کا نفس کبھی جلا نہیں پاتا۔جلاءِ نفس ہمیشہ ذکرِ الٰہی سے ہوتا ہے۔نمازوں کے متعلق بھی میں دیکھتا ہوں کہ اس امر کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی کہ نمازیں آہستگی کے ساتھ پڑھیں۔لوگ سنتیں جلدی جلدی ختم کر کے مسجد سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔لاہور میں جن دنوں اُمِّ طاہر بیمار تھیں میں متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا رہا اور میں نےد یکھا کہ آخر پندرہ بیس دن کے بعد جماعت کو یہ عادت ہوئی کہ وہ آہستہ آہستہ نماز پڑھے امام کے ساتھ تو آہستہ نماز پڑھنے پر لوگ مجبور ہوتے ہیں ورنہ اگر ان کا بس چلے تو امام رکوع میں ہی ہو اور وہ سلام پھیر کر چلے جائیں۔لیکن جب فرض نماز ختم ہوتی ہے اور سنتیں پڑھنے کا وقت آتا ہے تو جھٹاپٹ ایک دوڑ شروع ہو جاتی ہے جو نہایت نامناسب اور اسلامی تعلیم کے خلاف حرکت ہے ہماری جماعت کے دوستوں کا فرض ہے کہ وہ ٹھہر ٹھہر کر نمازیں پڑھا کریں اور اپنے اوقات کا ایک بڑا حصہ ذکر الٰہی اور دعاؤں میں صرف کیا کریں اور دوسرے مسلمانوں سے بھی انہیں یہی کہنا چاہیے کہ وہ عبادت اور ذکر الٰہی پر زور دیں۔کیونکہ اسلام کی اصل ترقی ذکر الٰہی اور عبادت پر زور دینے سے ہی ہو گی۔