تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 451
چوتھے معنے اس کے یہ ہیں کہ تعجب ہے مکہ والوں نے اپنے نفسوں پر سردی اور گرمی کے سفر واجب کر چھوڑے ہیں اور بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے۔یہ معنے بھی بعض مفسرین نے کئے ہیں یعنی تعجب ہے کہ یہ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ تو کرتے ہیں مگر عبادت نہیں کرتے انہیں چاہیے کہ یہ ان سفروں کو چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنا وقت گذاریں۔مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ معنے درست معلوم نہیں ہوتے۔اس لئے کہ ساری تاریخ اور خود عبارت کی بناوٹ بتا رہی ہے کہ یہاں ان کے اس فعل کو برا نہیں کہا گیا بلکہ اسے اچھا قرار دیا گیا ہے اور جب ان کے اس فعل کو اچھا قرار دیا گیا ہے تو اس آیت کے یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ وہ سفر کیوں کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ سفر چھوڑ دیں اور بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں پس یہ معنے لفظاً اور نحواً تو درست ہیں مگر یہاں چسپاں نہیں ہوتے۔دوسرے وہ یہ سفر اس لئے کرتے تھے کہ روٹی کما کر لائیں اورپھر مکہ والوں میں بانٹیں تاکہ وہ مکہ میں ہی رہیں، تلاشِ معاش میں مکہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ چلے جائیں۔اب ان معنوں کو درست تسلیم کرنے کا تو یہ مطلب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ تم باہر جاؤ اور مکہ والوں کو کھلاؤ۔مگر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ معنے عقل کے خلاف ہیں۔اس لئے اس آیت کا ہرگز یہ مفہوم نہیں۔ان سفروں کی ضرورت تو انہیں موت اور ہلاکت کی وجہ سے پیش آئی تھی۔اگر بلاضرورت مکہ والے سفر کرتے تو اعتراض کی بات تھی مگر جبکہ ایک اعلیٰ مقصد کے لئے انہوں نے یہ سفر اختیار کئے تھے تو اس آیت کے یہ معنے کرنا کہ وہ سفر کیوں کر رہے ہیں ان سفروں کو چھوڑیں اور بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں کسی طرح بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔ہاں یوں یہ معنے درست ہو سکتے ہیں کہ ان معنوں کو زمانۂ نبوی سے مخصوص قرار دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ پہلے تو یہ سفر جائز تھے مگر اب تو مکہ والوں کو یہ سب کام چھوڑ کر صداقتِ محمدیت پر غو رکرنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت میں لگ جانا چاہیے۔اگر یہ معنے کئے جائیں تو یقیناً درست ہیں چنانچہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد یہ سفر خودبخود بند ہو گئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حج کو اتنا مقبول کر دیا کہ مکہ والوں کو باہر جانے کی ضرورت ہی نہ رہی۔وہیں بیٹھے بٹھائے اللہ تعالیٰ ان کو رزق دے دیتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے چونکہ تجلّی کامل نہیں ہوئی تھی اس لئے مکہ والوں کو ان سفروں کی ضرورت پیش آتی رہتی تھی مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تجلّی الٰہی کامل طور پر ظاہر ہو گئی اس لئے اب یہ ضرورت نہیں تھی کہ مکہ والے سفر کریں۔اگر ہم اس آیت کے یہ محدود معنے کر لیں تو پھر کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔ہم کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سفروں کو کلیۃً برا نہیں کہا بلکہ مکہ والوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہو رکے بعد اب ان سفروں کی کوئی ضرورت نہیں۔تمہیں چاہیے کہ ان سفروں کو