تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 450
خدا اور اس کے رسول کا بس یہی کام ہے کہ وہ ڈاکوؤں کی طرح دوسروں کا مال لوٹ کر مسلمانوں کے حوالے کر دیں اور ان کی بہو بیٹیاں اغوا کر کے مسلمان نوجوانوں کو دیتے چلے جائیں تاکہ وہ عیاشیاں کریں۔یہ کتنی بڑی بد عملی ہے جو غلط اعتقادات کی وجہ سے بعض مسلمانوں میں پائی جاتی ہے اور کیا ایسی قوم دنیا میں کوئی بھی ترقی کر سکتی ہے۔حالانکہ جہاں حقیقی محبت ہو وہاں کام زیادہ کیا جاتا ہے اور عام حالات سے زیادہ قربانی پیش کی جاتی ہے۔مشرک لوگ اپنے جھوٹے معبودوں کے لئے کتنے پاپڑ بیلتے ہیں اور طرح طرح کی تکالیف اٹھا کر انہیں خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو جہاں حقیقی محبت ہوتی ہے وہاں انسان کا م زیادہ کرتا ہے کام کو چھوڑ نہیں دیا کرتا۔یہی بات اللہ تعالیٰ لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ۔اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ۔فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ۔الَّذِيْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّاٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ (قريش:۲تا۵) کی آیت میں بیان فرماتا ہے۔یعنی مکہ کے قریش اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ان پر مہربانی کی، ان کے لئے امن قائم کیا، ان کی بھوک کو دور کیا اور ان کے لئے ہر قسم کے خطرات کو دنیا سے ہٹا دیا تو ان کو چاہیے تھا کہ وہ رب البیت کی عبادت بھی کرتے۔مگر ایک طرف تو یہ مانتے ہیں کہ خدا نے ان کے خوف کو دور کیا، خدا نے ان کی بھوک کو دور کرنے کے سامان مہیا کئے مگر دوسری طرف یہ اتنے نکمے ہو گئے ہیں کہ ہماری عبادت تک نہیں کرتے۔ہم نے ان کے دلوں میں جو ایلاف کیا اور اس کے نتیجہ میں رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ کو قیام کیا۔ان کے سفر نفع مند ہو گئے اور ان کی بھوکیں دور ہو گئیں انہیں سوچنا چاہیے کہ یہ سب کچھ کیوں کیا گیا۔آخر ہماری کوئی غرض تھی، کوئی مقصد تھا، کوئی وجہ تھی جس کی بناء پر ان سے یہ سلوک کیا گیا تھا۔اور وہ وجہ یہی تھی کہ وہ اس گھر کو آباد رکھیں۔پس چاہیے کہ جبکہ ہم نے اپنا حق ادا کر دیا ہے تو یہ بھی اپنا حق ادا کریں اور عبادتِ الٰہی میں اپنا وقت گذاریں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ سفر بھی لوگوں کے دلوں میں حج کا شوق پیدا کرنے اور انہیں خانۂ کعبہ کی طرف متوجہ کرنے کا ایک بڑا ذریعہ تھے۔جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں اہلِ عرب کو شروع میں حج کی طرف کوئی زیادہ توجہ نہیں تھی۔پس اللہ تعالیٰ نے ان سفروں کو انہیں حج کی طرف متوجہ کرنے کا ایک ذریعہ بنا دیا۔جب یہ لوگ ان کے گھروں میں جاتے اور ذکر کرتے کہ ہم مکہ سے آئے ہیں جہاں خانۂ کعبہ ہے اور جس کا اس اس طرح حج کیا جاتاہے اور جس سے بڑی بڑی برکتیں حاصل ہوتی ہیں تو تمام عرب میں پراپیگنڈہ ہو جاتا اور وہ لوگ جو حج سے غافل تھے ان کے دلوں میں بھی حج کرنے کی تحریک پیدا ہو جاتی۔اس طرح ان کو روزی بھی مل جاتی اور حج بھی لوگوں میں زیادہ سے زیادہ مقبول ہوتا چلا جاتا۔