تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 443
کتنے ہی چھوٹے تھے بہرحال علیؓ کے مقابلہ میں صحابہ کہلانے والے موجود تھے۔ہم مان لیتے ہیں کہ علیؓ بالکل غلطی پر تھے، ہم مان لیتے ہیں کہ علیؓ ہرگز خلافت کے مستحق نہیں تھے۔مگر سوال یہ ہے کہ علیؓ کے پاس خلافت آنے سے اسلام کو نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا مگر علیؓ کو ضعف پہنچ جانے سے اسلام کو ضعف پہنچ سکتا تھا۔لیکن وہ اتنی موٹی بات کو بھی نہ سمجھ سکے اور انہوں نے لڑائیاں شروع کر دیں۔دو خلافتوں میں آدھی دنیا فتح ہو چکی تھی اگر باقی دو خلافتیں اسی اطمینان کے ساتھ چلنے دیتے تو باقی ساری دنیا پر بھی اسلام پھیل جاتا اور پھر نہ تباہیاں ہوتیں نہ بربادیاں ہوتیں نہ خرابیاں پیدا ہوتیں۔مگر وہ اپنے نفس کو قابو میں نہ رکھ سکے اور ان کے دلوں میں یہی بات رہی کہ ہم حق پر ہیں ہم اپنا حق چھوڑ نہیں سکتے۔حالانکہ انہی لوگوں میں وہ صحابی بھی تھے جنہوں نے فتنہ کے خیال سے کبھی اپنے حق کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں میں اپنی کمر کو پٹکا باندھے مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ معاویہ آئے اور انہوں نے مسجد میں کھڑے ہو کر ایک تقریر کی جس میں کہا میں نے سوچا ہے میرے بعد حکومت کے لئے میرا لڑکا یزید سب سے زیادہ موزوں ہے اس میں وہ تمام قابلیتیں موجود ہیں جو حکمران میں ہونی چاہئیں۔اس لئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ میرے بعد یزید خلیفہ ہو گا۔کوئی ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ وہ اس منصب کا یزید سے زیادہ حقدار ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں میں نے پٹکا کھولا اور میں نے کھڑے ہو کر یہ کہنا چاہا کہ سب سے زیادہ اس منصب کا وہ حقدار ہے جس کا باپ اس وقت اسلام کے لئے لڑ رہا تھا جب تیرا باپ کافر تھا اور جو اس وقت اسلام کے لئے خود لڑ رہا تھا جب تو کافر تھا مگر پھر خیال آیا کہ اگر میں نے یہ کہہ بھی دیا تو اس کا فائدہ کیا ہو گا اسلام میں پہلے ہی تفرقہ کم نہیں اس سے اور بھی بڑھ جائے گا اوریہ جائز نہیں کہ میں ایک دنیوی بات کی خاطر اسلام کی ترقی اور اس کے مفاد کو نقصان پہنچاؤں(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الخندق و ھی الاحزاب)۔یہ حقیقی قربانی تھی۔اگر مسلمان سارے کے سارے چھوٹے اور بڑے اس نقطۂ نگاہ کو سمجھ لیتے تو یقیناً اسلام میں وہ تفرقہ پیدا نہ ہوتا جس نے اس کی بنیادیں ہلا دیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بہت سی باتوں میں حق پر تھے مگر سوال یہ ہے کہ بہت سی جگہوں پر انسان کو اپنا حق بھی قربان کرنا پڑتا ہے۔جب زیادہ بڑا مقصد سامنے آجائے تو اس وقت قربانی اور صرف قربانی ہی ایک ایسی چیز ہوتی ہے جو انسان کے کام آتی ہے۔اگر اس وقت کے مسلمان بھی ایسا کرتے اور وہ اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح نہ دیتے تو یقیناً اسلام کی ترقی کہیں سے کہیں نکل جاتی۔مگر افسوس کہ آخری دو خلفاء کے وقت میں بعض مسلمانوں سے وہ قربانی پیش نہ کی جا سکی جو مکہ والوں نے پیش کی تھی اور جس کا نتیجہ ظہور محمدؐی تھا۔خلاصہ کلام یہ کہ دنیا کی تاریخوں میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ صدیوں تک ایک قوم کے افراد اپنے لئے