تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 442

پھر جماعت کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو اپنی آمدن صحیح نہیں بتاتا۔مجھے معلوم ہے ایک شخص کی جائیداد مجھ سے زیادہ تھی مگر میرے چندہ سے اس کا چندہ بہت کم تھا۔شاید اس میں اندازہ کی غلطی تھی یا اس کی وجہ کمزوریٔ ایمان تھی۔بہرحال اس کو دیکھتے ہوئے میرا اندازہ یہی تھا کہ ہماری جماعت کی ماہوار آمدن ۲۵۔۳۰ لاکھ سے کم نہیں۔اگر ۵۱ فی صدی چندہ دیا جائے اور ۲۵ لاکھ ماہوار آمد اوسطاً سمجھ لی جائے تو ۲ ۱ ۱۲ لاکھ ماہوار آمد ۵۰ فی صدی کے حساب سے اور تیرہ لاکھ ۵۱ فی صدی کے حساب سے بن جاتی ہے۔مکہ والے بھی آخر اپنی آمد کا نصف قومی کاموں کے لئے دے دیا کرتے تھے۔وہ کافر تھے، وہ بے ایمان تھے، وہ مشرک تھے مگر وہ سب کے سب اپنی آمد کا نصف اس لئے نکال دیا کرتے تھے تاکہ وہ غربا میں تقسیم کیا جائے اور مکہ آباد رہے۔ان کے دلوں میں ایمان نہیں تھا ان کے پاس قرآن نہیں تھا، ان کے سامنے قومی ترقی کا کوئی مقصود نہیں تھا، ان کے سامنے کوئی اعلیٰ درجے کا آئیڈیل نہیں تھا۔محض اتنی بات تھی کہ قصیّ نے ہم کو کہا ہے کہ ہمارے دادا ابراہیمؑ نے یہ کہا ہے کہ مکہ میں رہو۔اس لئے ہم یہاں رہنے کے لئے آگئے ہیں۔یہ کتنا چھوٹا سا آئیڈیل ہے۔اس کے مقابلہ میں تمہارا آئیڈیل کیا ہے۔تمہارا آئیڈیل یہ ہے کہ تم نے دنیا فتح کرنی ہے تم نے دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بادشاہت قائم کرنی ہے تم نے دنیا میں خدا کی بادشاہت قائم کرنی ہے۔وہ اپنے چھوٹے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اپنا نصف مال لا کر دے دیتے تھے۔ان میں سے ہر شخص اپنی آمد کا آدھا حصہ نکال کر کہتا کہ یہ آدھا حصہ غریبوں کے لئے ہے تاکہ مکہ آباد رہے اور وہ اسے چھوڑ کر ادھر ادھر نہ جائیں۔مگر تم بڑے مقصد کے لئے وہ قربانی نہیں پیش کر سکتے اگر تم ایسا کرو تو سلسلہ کی سالانہ آمد سوا کروڑ یا ڈیڑھ کروڑ ہونی چاہیے۔اگر جماعت مکہ والوں کی قربانی کے برابر قربانی کرنے لگ جائے، اس سے نصف بھی کرنے لگ جائے، اس سے چوتھا حصہ بھی کرنے لگ جائے تو کتنا عظیم الشان کام ہو سکتا ہے۔کتنی تبلیغ وسیع ہو سکتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب آپ مدینہ میں آگئے صحابہؓ نے بڑی بڑی قربانیاں کیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان بحیثیت قوم قربانی کے اس معیار کو زیادہ دیر تک قائم نہیں رکھ سکے۔حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں فتنہ پیدا ہوا۔مان لو کہ یہ کسی غلطی کی وجہ سے پیدا ہوا مگر اتنا تو ہے کہ اس وقت لوگوں کی طبائع میں جوش پیدا ہو گیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ قومی تباہی ہمارے سامنے کھڑی ہے انہوں نے اگر دیکھا تو اس بات کو کہ ہم حق پر ہیں۔اس وقت بعض صحابی بھی آپ کے مقابلہ میں تھے۔چاہے وہ کتنے ہی چھوٹے ہوں مگر بہرحال وہ کہلاتے تو صحابہ ہی تھے۔پھر حضرت علیؓ کا زمانہ آیا اس زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ چاہے وہ