تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 437

بے شک ایک دفعہ قصی بن کلاب نے انہیں وہاں لا کر بسا دیا تھا مگر جن مشکلات کی وجہ سے انہوں نے پہلے مکہ چھوڑا تھا انہی مشکلات کی وجہ سے وہ دوبارہ بھی چھوڑ سکتے تھے۔جب خدا پر انہیں یقین نہ تھا، جب اس کے نشانات ان کے سامنے نہ تھے، جب خدا کو وہ جانتے ہی نہیں تھے بلکہ دن رات بتوں کی پوجا کرتے رہتے تھے تو آخر یہ الٰہی تصرّف نہیں تھا تو اور کیا تھا کہ باوجود مخالف حالات کے اللہ تعالیٰ نے انہیں مکہ میں سے نکلنے نہیں دیا اور آخر ان کے گذارہ کے لئے یہ صورت پیدا کر دی کہ ان کے دل میں تجارتی سفروں کی تحریک پیدا کر دی گئی۔چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ باہر کمانے کے لئے چلے جاتے اور باقی سب مکہ میں ہی بیٹھے رہتے، وہ کما کر لاتے اور دوسرے لوگ کھاتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے عرصہ میں ہی ان کی حالت دوسروں سے اچھی ہو گئی۔یہ سفر بھی کوئی زیادہ لمبا نہیں ہوتا تھا۔دو تین مہینہ کا سفر ہوتا تھا۔اس کے بعد پھر مکہ میں آکر رہنا شروع کر دیتے تھے۔پھر یہ بھی نہیں تھا کہ سارا مکہ سفر پر چلا جاتا تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ قافلہ میں صرف دو تین سو آدمی شامل ہو اکرتے تھے حالانکہ مکہ کی آبادی پندرہ بیس ہزار تھی۔اگر جوان مردوں کا اندازہ لگایا جائے تو پندرہ بیس ہزار کی آبادی میں تین چار ہزار جوان ضرور ہو گا اور اگر بوڑھے اور کہولت کے زمانہ والے بھی ملا لئے جائیں تو پانچ چھ ہزار آدمی بن جاتا ہے۔ان میں سے صرف دو تین سو شام چلا جاتا دو تین سو آدمی یمن چلا جاتا اور باقی سب وہیں رہتے۔یہ نہیں ہوتا تھا کہ سارے کا سارا مکہ خالی ہو جاتا اور سب یمن یا شام کی طرف چل پڑتے۔صرف دو تین سو آدمی قافلہ میں جایا کرتے تھے (تـفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ) اور جو باقی رہتے وہ ان لوگوں کی جو عمرہ وغیرہ کے لئے آیا کرتے تھے خدمت کرتے اور ان کی ضرورتوں کے پورا کرنے کا خیال رکھتے اور اس کا خود حدیثوں میں سے بھی ثبوت ملتا ہے۔حدیثوں میں صاف ذکر آتا ہے کہ وہ سارے کے سارے سفر نہیں کرتے تھے۔چنانچہ مکہ کے امراء کی نسبت احادیث میں آتا ہے اِنَّـھُمْ کَانُوْا یَشْتُوْنَ بِـمَکَّۃَ وَ یَصِیْفُوْنَ بِالطَّائِفِ (سراج منیر سورۃ قریش ) یہ ابن عباسؓ سے روایت ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ امراء مکہ سردی کے موسم میں مکہ میں رہتے تھے اور گرمیاں طائف میں گذارتے تھے کیونکہ طائف پہاڑی علاقہ ہے اور اس میں سردی ہوتی ہے پس یہ سفر صرف چند آدمی کرتے تھے سارے کے سارے اس سفر پر نہیں نکلتے تھے مگر اس قافلہ کی وجہ سے گذارہ سب کو مل جاتا اور وہ خانۂ کعبہ کی خدمت میں مشغول رہتے۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ کے وقت میں جب میر محمد اسحاق صاحب کی تعلیم کا زمانہ آیا۔(میر صاحب مجھ سے پونے دو سال چھوٹے تھے) تو ہمارے نانا جان مرحوم نے حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا کہ اسے کیا پڑھایا جائے۔آپ نے فرمایا اس کو دینی تعلیم دلوائیے۔ایک بیٹے کو تو آپ نے دنیا پڑھائی ہے