تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 433

کے معاً بعد خدا تعالیٰ نے سورۃ ایلاف کو رکھا ہے۔تفسیر۔چونکہ بسم اللہ کے بعدکی دونوں آیتیں درحقیقت ایک مضمون پرمشتمل ہیں اس لئے ان دونوں کی تفسیر اکٹھی ہی کی جانی مناسب ہے۔چنانچہ میں ان دونوں آیات کی تفسیر یکجائی طور پر بیان کرتا ہوں:۔لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ۔اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ۔جو معانی میں اوپر بیان کر چکا ہوں ان کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ مختلف محذوفات کی وجہ سے جو لام سے پہلے نکالے گئے ہیں اور ایلاف کے مختلف معنوں کی وجہ سے اس آیت کے کئی معنے ہوں گے۔جو قریباً ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے ہوں گے۔پہلا مطلب اس کا یہ ہوا کہ ہم نے قریش کے دل میں سردی گرمی کے دونوں سفروں کی محبت پیدا کرنے کے لئے ابرہہ کے لشکر کو تباہ کر دیا اور انہیں بھوسے کی طرح اڑا دیا۔اس میں جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اس طرف اشارہ ہےکہ خدا تعالیٰ ان دونوں سفروں کو قائم رکھنا چاہتا تھا۔ان معنوں کے رو سے خدا تعالیٰ کا زور دونوں سفروں کے قیام پر ہے۔یعنی دونوں سفروں کا قیام الٰہی سکیموں کا ایک حصہ تھا۔اور چونکہ الٰہی حکمت چاہتی تھی کہ یہ دونوں سفر قائم رہیں اس لئے اس نے ابرہہ کے لشکر کو تباہ کر دیا مگر میں بتا چکا ہوں کہ اس کے یہ معنے نہیں کہ’’اسی لئے‘‘ تباہ کیا بلکہ’’اس لئے‘‘ کے معنے ہیں۔اور ’’اس لئے‘‘ اور ’’اسی لئے‘‘ میں فرق ہوتا ہے۔’’اسی لئے‘‘ کے معنے ہوتے ہیں کہ یہی اصل مقصد تھا۔مگر ’’اس لئے‘‘ کے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مختلف وجوہ میں سے یہ بھی ایک وجہ تھی۔جیسا کہ میںپہلے بیان کر چکا ہوں اس تباہی کے کئی اسباب تھے۔جن میں سے ایک یہ بھی تھا۔پس یہاں ہم ’’اس لئے‘‘ کہیں گے نہ کہ ’’اسی لئے‘‘۔میں نے بتایا ہےکہ ان کے سردی گرمی کے سفروں کے قیام کی بڑی وجہ یہ تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی پیشگوئیاں یہودیوں اور عیسائیوں میں تو محفوظ تھیں لیکن حضرت ابراہیمؑ کی پیشگوئیاں مکہ میں محفوظ نہیں تھیں۔مکہ والے امتدادِ زمانہ کی وجہ سے ان پیشگوئیوں کا اکثر حصہ بھول چکے تھے۔اس لئے ضروری تھا کہ ان کو وہ پیشگوئیاں دوسری قوموں کے ذریعہ سے یاد کروائی جائیں۔یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام شرعی نبی نہیں تھے بلکہ وہ ایک دوسرے نبی کے تابع تھے۔شریعت لانے والے نبی حضرت نوح علیہ السلام تھے۔دوسرے ملکوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو شریعتیں آئیں وہ الگ ہیں ان کا یہاں ذکر نہیں۔لیکن بنی اسرائیل کی نسل جن قوموں سےبراہ راست چلتی تھی ان میں حضرت نوح علیہ السلام شریعت لانے والے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کی شریعت کے تابع تھے۔جس طرح کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام شریعت لانے والے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی شریعت کے تابع