تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 427

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے۔چنانچہ تاریخ میں مذکور ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا اور آپ کی قوم نے آپ کی مخالفت شروع کی تو ایک دفعہ مدینہ سے چند افراد حج کے لئے مکہ میں آئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دنوں میں ایک ایک قبیلہ کے پاس جاتے اور کہتے کہ میں تمہیں خدا کا یہ پیغام پہنچاتا ہوں کہ تم شرک کو چھوڑ دو۔خدائے واحد کی پرستش کرو اور اخلاقِ فاضلہ اپنے اندر پیدا کرو۔جب آپ یہ باتیں کہتے تو باہر سے آئے ہوئے لوگ قہقہ مار کر اور ایک دوسرے کی طرف آنکھیں مٹکا مٹکا کر دیکھتے اور یہ کہتے ہوئے کہ معلوم ہوتاہے ’’یہ وہی مکہ کا پاگل ہے‘‘ منہ پھیر کرچلے جاتے (تفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ)۔روحانی نقطۂ نگاہ کو مدّ ِنظر رکھا جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کی نجات کے لئے آپ پاگل ہو رہے تھے۔آپ کےد ل میں درد تھا کہ کسی طرح یہ دنیا ہلاکت اور تباہی کے راستوں سے بچ جائے۔ان معنوں کے لحاظ سے اگر کوئی شخص آپ کو پاگل کہتا ہے تو ہم اسے کہیں گے خدا کرے ایسے پاگل دنیا میں اور بھی پیدا ہوں کیونکہ ان معنوں کا پاگل بڑی قیمتی چیز ہے۔لیکن وہ لوگ جو کچھ کہتے مخالفت اور عناد کے نتیجہ میں کہتے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے سے انکار کر دیتے لیکن باوجود اس کے آپ مایوس نہ ہوتے اور حج کے دنوںمیں آپ ایک ایک قبیلہ کے پاس جاتے اور خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے۔ایک سال مدینہ کے کچھ لوگ جو حج کے لئے آئے ہوئے تھے آپ نے ان کو تبلیغ شروع کی۔ان کےدلوں میں کچھ شرافت تھی۔کچھ یہودیوں سے بھی انہوں نےباتیں سنی ہوئی تھیں جب ایک جگہ کھڑے ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تبلیغ کی تو انہوں نے آپ سے کہا آئیےہم ایک طرف کنارے پر بیٹھ کر آپ کی باتیں سنیں۔چنانچہ سب ایک طرف بیٹھ گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا پیغام پہنچانا شروع کیا(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام بدء اسلام الانصار)۔کچھ دیر سننے کے بعد انہوں نے کہا ہمارے شہر میں کچھ یہودی بستے ہیں اور چونکہ ہم زیادہ ہیں اور وہ تھوڑے ہیں اور معاہدات میں ہمارا پہلو غالب رہتا ہے وہ ہمیشہ ہم سے کہا کرتے ہیں کہ آج کل اس ملک میں ایک بہت بڑا نبی ظاہر ہونے والا ہے اس کے ذریعہ ہم لوگ تم پر غالب آجائیں گے لیکن اس نے ہم میں سے آنا ہےاور مدینہ میں آنا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم مدینہ میں آبسے ہیں۔جب وہ وقت آئے گا ہم اس کے ذریعہ سے پھر ترقی کریں گے۔مگر ہمیں تو آپ کی باتوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی جس کےمتعلق یہودی یہ سمجھتے تھےکہ ان میں سے آنے والا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں سے آنا تھا۔ہمیں آپ کی باتیں سچی نظر آتی ہیں اور جو علامتیں یہودیوں نے ہمیں بتائی تھیں وہ آپ میں پوری ہوتی نظر آتی ہیں مگریہ بھی ڈر ہے کہ اگر ہم نے اس بارہ میں کوئی فیصلہ کیا تو قوم میں جوش پیدا نہ ہو جائے۔اور وہ یہ نہ سمجھے کہ آپ تو