تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 424

غربت زیادہ ہے اس لئے یہاں کی عمر پہلے ۲۲ سال تھی اب ۲۸ سال کے قریب قریب سمجھی جاتی ہے۔اگر ہم عربوں کی ایک نسل کی عمر ۳۰ سال فرض کر لیں تو یہ تحریک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے کوئی سوا دو سو سال پہلے شروع ہوئی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے درمیان کوئی ۲۲۔۲۳ سو سال کا فرق تھا۔میں نے بتایا تھا کہ یہ اندازہ ۲۲ سو سے ۲۸سو سال تک سمجھا جاتا ہے اگر ہم چھوٹے سے چھوٹا اندازہ رکھ لیں جو ۲۲ سو سال کا ہے اور اس میں سے یہ سوا دو سو سال نکال دیں تو باقی دو ہزار سال رہ گئے۔یہ دو ہزار سال کا زمانہ ایسا تھا جس میں قوم اپنا فرض بھولی رہی دنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ جوں جوں اوپر کی نسل کی طرف جائیں ماں باپ کی یاد اولاد کے دلوں میں زیادہ قائم ہوتی ہے اور جوں جوں نیچے کی طرف آئیں یہ یاد کم ہوتی چلی جاتی ہے۔اس قاعدہ کے مطابق حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے زمانہ کا قرب جس نسل کو حاصل تھا اسے قدرتاً وہ وعدے زیادہ یاد ہونے چاہیے تھے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئے۔کیونکہ دنیا میں طریق یہی ہے کہ باپ کو بیٹا زیادہ یاد رکھتا ہے پوتا اس کی یاد کو کم کر دیتا ہے اور پڑپوتا اس کی یاد کو اور بھی کم کر دیتا ہے یہاں تک کہ چار پانچ پشت میں تو اولاد اپنے دادا پڑدادا کو بالکل ہی بھول جاتی ہے۔اور اگر اس سے بھی زیادہ عرصہ گذر جائے تو انہیں کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔چنانچہ تمام بڑی بڑی قوموں کو دیکھ لو سب میں یہی کیفیت نظر آئے گی مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہؓ کی اولاد نے جو ابتداء میں قربانیاں کیں وہ کتنی حیرت انگیز ہیں مگر اب سادات کو دیکھ لو ان کی کیا حالت ہے۔ان میں سے اکثر ایسے ملیں گے جو اسلام سے کوسوں دور ہیں حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کی اولاد ہیں۔پھر ہماری اپنی قوم کو دیکھ لو۔چینی ترکستان سے باتو خان جو مغلوں کا ایک پڑدادا تھا اٹھااور طوفان کی طرح تمام یورپ پر پھیلتا چلا گیا(پنجاب کے مغل قبائل زیر عنوان باتوخان)۔دوسری طرف جتلائی خان مشرق میں چینی سمندر کے کناروں تک پر قابض ہو گیا(اردو دائرہ معارف زیر لفظ قبلائی)۔اگر ایک طرف جاپان کے کناروں تک ہماری قوم پہنچی تو دوسری طرف یورپ کو بھی اس نے روند ڈالا۔مگر اب کئی مغل ایسے نظر آئیں گے جو دشمن کا مقابلہ تو الگ رہا خطرہ سامنے دیکھ کر چیخ مار کر بھاگ جائیں گےاور اپنے باپ دادوں کے کارنامے انہوں نے یکسر بھلا دیئے ہیں۔اسی طرح پٹھان آئے تو وہ کس طرح سارے ہندوستان میں پھیل گئے مگر اب سمٹ سمٹا کر وہ پٹھان ایک چھوٹے سے علاقہ میں رہ گئے ہیں۔اگر قربانی اور ایثار کا ان میں وہی مادہ رہتا جو ان کے باپ دادا میں تھا تو یہ انقلاب کیوں پیدا ہوتااور کیوں وہ حاکم ہونے کے بعد محکوموں کی سی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتے۔غرض طبعی طریق کو اگر مدّ ِنظر رکھا جائے تو شروع زمانہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کا اثر ان کی قوم پر زیادہ ہونا چاہیے