تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 422
ہاشم بن عبد مناف نے دنیا میں یا کم سے کم عرب میں سب سے پہلے کمپنی سسٹم جاری کیا ہے۔یوں تو تاجر دنیا میں ہمیشہ تجارت کیا ہی کرتے ہیں۔زید تجارت کی غرض سے باہر جاتا اور سودا لے کر آجاتا ہے تو پھر اسے زیادہ مہنگے داموں پر وہ فروخت کر دیتا ہے۔مگر یہ کہ سفر کسی فرد کا نہ ہو بلکہ قومی طور پر تمام قبیلہ کا مشترکہ سرمایہ لے کر سفر کیا جائے اس کی ابتداءکم سے کم عرب میں ہاشم بن عبد مناف سے ہی ہوئی ہے۔لوگوں نے کہا بہت اچھا ہمیں منظور ہے چنانچہ قافلے جانے لگے۔جب بھی کوئی قافلہ جاتا تو ہر شخص دس۱۰ بیس۲۰ پچاس۵۰ یا سو۱۰۰ روپیہ جتنا دینا چاہتا قافلہ والوں کے سپرد کر دیتا۔پھر ان میں سے ایک کو رئیس بنا دیا جاتا۔اور باقی لوگ اہلِ مکہ کی طرف سے نمائندہ بن کر اس سفر پر روانہ ہو جاتے۔امرا جن کی حالت کچھ اچھی تھی وہ بعض دفعہ تجارت کی غرض سے اپنے غلام بھی ان سفروں میں بھیج دیا کرتے تھے۔ان کا طریقِ تجارت یہ تھا کہ وہ مکہ سے روانہ ہوتے وقت ایسی چیزیں اپنے ساتھ لے لیتے تھے جو ان کی نظروں میں متبرّک ہوتی تھیں اور جہاں جہاں عرب قبائل میںسے گذرتے وہاں مکہ کے تبرکات انہیں دیتے جاتے۔مثلاً آبِ زمزم کے کچھ مشکیزے بھر کر اپنے ساتھ رکھ لیتے چونکہ عرب قبائل کو خانۂ کعبہ سے بہت عقیدت تھی اس لئے جب انہیں گھر بیٹھے آبِ زمزم میسر آجاتا یا اسی طرح کی بعض اور چیزیں مل جاتیں تو وہ بہت خوش ہوتے اور قریش کو نہایت ادب اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے۔اسی طرح اور بھی کئی چیزیں وہ اپنے ساتھ رکھ لیتے تھے۔مثلاً مکہ میں لوہارے کا کام اچھا ہوتا ہے وہ لوہے کی تیار شدہ چیزیں لے لیتے۔اسی طرح کھجوریں اپنے ساتھ رکھ لیتے اور یہ سب چیزیں رستہ میں فروخت کرتے جاتے۔پھر جہاں عرب قبائل میں ٹھہرتے اور دیکھتے کہ وہاں کوئی چیز ایسی ہے جو شام میں اچھے داموں پر فروخت کی جا سکتی ہے تو وہ ان قبائل سے ایسی چیزیں خود خرید لیتے اور شام میں جا کر فروخت کر دیتے پھر جب شام سے آتے تو وہاں سے دو قسم کا مال خرید لیتے کچھ تو مکہ والوں کے لئے اور کچھ راستہ میں آنے والے عرب قبائل میں فروخت کرنے کے لئے۔اس طرح ان کو نفع بھی حاصل ہوتا اور شام اور دوسرے عرب علاقوں کا مال بھی مکہ میں آجاتا۔اسی طرح سردیوں میں وہ یمن کا سفر کیا کرتے تھے۔مکہ اور یمن کے درمیان بھی بڑا لمبا فاصلہ تھا اور اس راستہ پر بھی مختلف عرب قبائل آباد تھے اس سفر میں بھی وہ تمام لوگوں کو مکہ کے تحائف دیتے اور ان سے عمدہ عمدہ چیزیں خریدتے ہوئے یمن پہنچ جاتے اور یمن میں تمام مال فروخت کر کے وہاں کی مصنوعات اور غلّہ وغیرہ کچھ مکہ والوں کے لئے اور کچھ رستہ کے عرب قبائل میں فروخت کرنے کےلئے لے آتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ چند سال میں ہی مکہ کی دولت سارے عرب سے زیادہ ہو گئی۔ان کا یہ بھی طریق تھا کہ جب قافلہ واپس آتا تو ہر آدمی جس کا اس تجارت میں حصہ ہوتا تھا وہ اپناآدھا حصہ غرباء کے لئے نکال دیتا تھا۔مثلاً ایک