تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 38

یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہوگی اور تم حیران ہوگے کہ ایسا کس طرح ہوگا۔یہ تو فطرت کے خلاف باتیں ہیں اور جب لوگ ان کاارتکاب کرنے لگیں گے تو ان کی فطرت خودبخود مقابلہ کرے گی اور انہیں سختی سے اس گناہ کے سیلاب میں بہنے سے روک لے گی۔مگر یہ درست نہیں وہ کبھی نہیں رکیں گے کیونکہ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا یہ خبر قرآن کریم میں آچکی ہے اور قرآن عالم الغیب ہستی کی کتاب ہے وہ وہی کچھ آئندہ زمانہ کے متعلق لکھتا ہے جو ہوناہوتا ہے۔اگر لوگوں نے ان حالات سے پھر جانا ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے یہ امر بھی مخفی نہ رہتا اور وہ اس کا حال بھی بیان کردیتا۔بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا میں اَوْحٰى کا صلہ بیان نہ کرنے کی حکمت اَوْحٰى کا صلہ ہمیشہ اِلٰى استعمال ہوتا ہے مگر اس جگہ اَوْحٰى کے بعد لام استعمال کیا گیا ہے۔ایسا کیوں ہوا ہے؟ مفسرین نے اس کا یہ جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ بعض قبائل عرب میں اِلٰى کی بجائے لام بھی بطور صلہ استعمال ہوتا ہے جیسے وَحَیْتُ اِلَیْہِ اور اَوْحَیْتُ اِلَیْہِ کی بجائے بعض عرب وَحَیْتُ لَہٗ اور اَوْحَیْتُ لَہٗ بھی استعمال کرلیتے ہیں۔(فتح القدیر سورۃ زلزال زیر آیت بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا) مگر ہم اس توجیہ کو درست تسلیم نہیں کرسکتے۔قرآن کریم میںپینسٹھ جگہ وحی کا لفظ آیا ہے اور ہر جگہ اِلٰى کا صلہ ہی استعمال ہوا ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ یہاں اِلٰى کی بجائے لام کے صلہ کا جواز نکالا جائے۔بعض اور مفسرین نے اس جواب کی غلطی کو محسوس کیا ہے اور انہوں نے اس کے معنے یہ کئے ہیں کہ اَوْحٰى اِلَى الْمَلٰٓىِٕكَةِ لَھَا یعنی جس کی طرف وحی کی گئی ہے اس کے ذکر کو محذوف تسلیم کیا ہے۔یہ توجیہ درست ہے لیکن میرے نزدیک یہاں اَوْحٰى اِلَى الْمَلٰٓىِٕكَةِ مراد نہیں بلکہ اَوْحٰى اِلٰى رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مراد ہے اور معنے یہ ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ یہ خبریں دے رکھی ہیں اس لئے اب ایسا ضرور ہوکر رہے گا۔یہ بات رک نہیں سکتی۔ہم نے اپنی وحی میں یہ خبر دے دی ہے کہ اس زمانہ میں جب مسیح موعود آئے گا اور جو ہمارے رسول کی دوسری بعثت کا زمانہ ہوگا یہ علامات رونما ہوں گی۔پس بے شک اور باتیں ٹل سکتی ہیں مگر یہ علامت کبھی ٹل نہیں سکتی کیونکہ جس چیز کو کسی مامور کی شناخت کے متعلق بطور علامت قرار دے دیا جائے وہ کبھی ٹلا نہیں کرتی۔اس اصول کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنی کتب میں بیان فرمایا ہے اور لکھا ہے کہ بے شک انذاری خبریں ٹل جایا کرتی ہیں مگر وہ انذاری خبریں جو اللہ تعالیٰ کے کسی مامور کی علامت کے طور پر بیان ہوئی ہوں کبھی نہیں ٹلتیں۔بلکہ وہ اسی طرح پوری ہوتی ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے خیر کے امور پورے ہوتے ہیں۔آیت بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا کی تشریح مسیح موعود کی زبان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس آیت کے ایک اور معنے بھی فرمایا کرتے تھے جو میں نے خود آپ کی زبان سے سنے ہیں۔آپ فرماتے تھے