تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 400

صورت میں معنوں کا فوراً پتہ لگ جائے گا کیونکہ دونوں کے مصدر الگ الگ شکل کے ہیں اسی لئے یہاں مصدر استعمال کیا گیا ہے تاکہ معنے واضح ہو جائیں۔لیکن تعجب ہے کہ بعض بڑے علماء نے باوجود اِیْلَاف کا مصدر استعمال ہونے کے اس جگہ اٰلَفَ کے معنے کئے ہیں جس کا مصدر اِلَافٌ ہے اور بعض نے تو قرأۃ دو میں سے ایک جگہ اِلَافٌ کا لفظ پڑھنا جائز سمجھا ہے۔جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں وہ اٰلَفَ جس کا مصدر اِیْلٰفٌ ہو اس کے معنے کسی دوسرے کے دل میں محبت پیدا کر دینے کے ہوتے ہیں خصوصاً مکان یا مقام کی محبت۔چنانچہ کہتے ہیں اٰلَفْتُہٗ مَکَانًا کَذَا جَعَلْتُہٗ یَاْلِفُہٗ (اقرب) میں نے فلاں مکان کے متعلق اس سے اِیْلَاف کیا یعنی اس کے دل میں اس مکان کی محبت پیدا کر دی۔اسی طرح اٰلَفَہٗ اِیْلَافًا کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ ہَیَّأَہٗ وَ جَھَّزَہٗ۔اس کو سامان دیا اور اسے تیار کر دیا۔پھر ایک محاورہ اٰلَفَہٗ اِیَّاہُ بھی عربی زبان میں استعمال ہوتاہے جس کے معنے ہوتے ہیں اَلْزَمَہٗ اِیَّاہُ اس کے ساتھ اسے لازم کر دیا یا اس کے ساتھ اس کے تعلق کو مضبوط کر دیا۔پہلے معنوں کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ کے یہ معنے ہوں گے کہ قریش کے دل میں محبت پیدا کرنے کے لئے یا انس پیدا کرنے کے لئے ہم نے اصحابِ فیل کو تباہ کیا۔گویا یہاں اضافت مفعولی ہے۔آگے رہا یہ سوال کہ اس کا دوسرا مفعول کیا ہے۔تو اس کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ مفسرین نے دوسرا مفعول رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ کا جملہ قرار دیا ہے یعنی سردی گرمی کے سفروں کی محبت پیدا کرنے کے لئے یا سردی گرمی کے سفروں کو محبوب بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اصحابِ فیل کو تباہ کیا۔دوسرے معنے اٰلَفَ اِیْلَافًا کے تیار کرنے اور سامان مہیا کرنے کے ہوتے ہیں۔سامان مہیا کرنے کے معنوں کے رو سے اس آیت کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ قریش کو گرمی سردی کے سفر پر تیار کرنے کے فعلِ الٰہی پر تعجب کرو یعنی اس قوم کا سفروں پر آمادہ ہو جانا یا ان سفروں کے لئے ہر قسم کے سامانوں کا اس کے لئے مہیا ہو جانا ایک ایسی چیز ہے جو قابل تعجب ہے۔درحقیقت تیار کرنے کے معنے سامان مہیا کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔پس اس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے امن قائم کر دیا۔رستے کھول دیئے۔لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دی۔ان کا احترام پیدا کر دیا اور پھر خود ان کے دلوں میں اس خواہش کا پیدا ہو جانا بھی ایک تعجب کی بات ہے کیونکہ وہ مکہ کے عاشق تھے اور سفر پر جانا پسند نہیں کرتے تھے۔تیسرے معنے اِیْلَاف کے کسی چیز کو لازم کر دینے کے ہیں۔ان معنوں کےر و سے اس آیت کا یہ مطلب ہے