تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 397

ان معنوں پر بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ فَلْيَعْبُدُوْا سے پہلے فاء پڑی ہوئی ہے اور فاء ہمیشہ جملہ کے آخری حصہ کے لئے آتی ہے حالانکہ لام کا متعلق پہلے آنا چاہیے تھا۔وہ کہتے ہیں ہم یہ مانتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک چیز مقام کے لحاظ سے پہلے ہوتی ہے لیکن ذکر کے لحاظ سے پیچھے آتی ہے مگر فاء بتا رہی ہے کہ فَلْيَعْبُدُوْا کا مقام بعدکا ہے اس لئے اسے لام کا متعلق کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے جس کا مقدم ہونا ذکراً نہ ہو تو مقاماً اور معناً ضروری ہے اس کا جواب زجاج اور زمخشری نے یہ دیا ہے کہ فاء شرط کے جواب کے لئے آتی ہے(کشاف زیر آیت ھذا) اور اس جگہ فاء سے پہلے ایک اور جملہ محذوف ہے اور یہ فاء اسی محذوف جملہ پر دلالت کرتی ہے نہ کہ اٖلٰفِهِمْ پر۔چنانچہ وہ یہ فقرہ اس جگہ محذوف بتاتے ہیں فَاِنْ لَّمْ یَعْبُدُوْا بِنِعْمَۃٍ اُخْرٰی فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ۔یعنی اگر خدا تعالیٰ کی اور نعمتوں کی قریش کو قدر نہیں تو کم سے کم قریش کے دلوں میں جو اس نے سردی گرمی کے سفروں کی محبت پیدا کی ہے اس کی قدر کرتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔گویا اصل عبارت یوں ہے کہ فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ اگر وہ کسی اورنعمت کی قدر نہیں کرتے تو ایلافِ قریش کی نعمت کی وجہ سے ہی خدا تعالیٰ کی عبادت کریں۔اِیْلٰف۔لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ۔اِیْلٰف۔اٰلَفَ کا مصدر ہے اور اس کے معنے کسی چیز کی محبت دل میں ڈالنے کے ہوتے ہیں۔مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عربی زبان میں اٰلَفَ کے دو مصدر آتے ہیں اِلَافٌ بھی اور اِیْلٰــــفٌ بھی۔وہ اٰلَفَ جس کا مصدر اِلَافٌ ہوتا ہے اس کے اور معنے ہوتے ہیں اور وہ اٰلَفَ جس کا مصدر اِیْلٰــــفٌ ہوتا ہے اس کے اور معنے ہوتے ہیں۔جب صرف اٰلَفَ کا فعل آئے تو ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ اس کے کیا معنے ہیں۔آیا اِیْلٰــــفٌ والے معنے ہیں یا اِلَافٌ والے معنے ہیں۔ہم عبارت کو دیکھ کر اس بارہ میں کوئی رائے قائم کریں گے اور یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ اٰلَفَ اِیْلٰــــفٌ والا ہے یا اٰلَفَ اِلَافٌ والا ہے۔لیکن اگر مصدر ساتھ آجائے تو ہمیں اس کے معنوں کی تعیین میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی ہم فوراً سمجھ سکیں گے کہ اس کے کیا معنے ہیں۔چونکہ اس آیت میں مصدر اِلَافٌ نہیں بلکہ۔اِیْلٰــــفٌ استعمال کیا گیا ہے اور۔اِیْلٰــــفٌ کے معنے کسی چیز کی محبت پیدا کرنےاور ڈالنے کے ہوتے ہیں خصوصاً مکان یا مقام کی محبت پیدا کرنے کے لئے یہ لفظ زیادہ استعمال ہوتا ہے اس لئے اس جگہ محبت پیدا کرنے کے معنے ہی مراد لئے جائیں گے۔لفظ اِیْلٰف کے متعلق پہلے مفسرین کی ٹھوکر عجیب بات یہ ہے کہ بعض دفعہ بڑے بڑے عالم بھی