تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 392

کرتی ہے۔اگریہی فلسفہ کسی کے سامنے بیان کرو اور کہو کہ تو نے کہا تھا میں شادی اس لئے کر رہا ہوں کہ گھر بس جائے گا اولاد ہو گی اور اب تو کہتا ہے کہ روٹی کا بھی آرام ہو جائے گا ان دونوں میں سے تمہاری کوئی ایک ہی غرض ہو سکتی ہے دونوں نہیں تو وہ کیا کہے گا، وہ ایسا اعتراض کرنے والے کو پاگل سمجھے گا بلکہ شادی کی ایک تیسری غرض بھی ہوتی ہے کہ تقویٰ حاصل ہو کیونکہ شہوانی قویٰ بھی اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں پیدا کئے ہوئے ہیں۔پھر بعض لوگ جن کی طبیعت میں کچھ نقص ہوتا ہے وہ تو یہ بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمارے گھر میں کوئی پڑھا ہوا نہیں لڑکی پڑھی ہوئی ہے اگر وہ آئی تو ہمارے گھر میں بھی علم کا چرچا ہو جائے گا۔اس طرح شادی کی ایک اور غرض بھی بیان کر دی جاتی ہے اور کوئی شخص نہیں کہتا کہ تم ایک ہی کام کی تین تین چار چار اغراض بیان کر رہے ہو یہ تو درست نہیں صرف ایک غرض ہونی چاہیے۔پس فلسفی کا یہ کہنا کہ ایک غرض اصلی ہو گی اور باقی سب ضمنی ہوں گی بالکل غلط ہے۔حقائق کا علم علم النفس اور فلسفہ کے امتزاج سے ہوتا ہے محض فلسفہ سے نہیں۔اگر ہم سب امور کا تجزیہ فلسفہ سے کریں تو دنیا کی کوئی حقیقت حقیقت نہیں رہتی۔دنیا کے بہت سے کام کئی کئی اغراض کے لئے ہوتے ہیں۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف ایک غرض کے لئے وہ کام نہ کیا جاتا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر صرف ایک غرض ہوتی تب بھی وہ کر لیا جاتا۔پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سب اغراض ایک اہمیت کی ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کم و بیش اہمیت کی ہوں۔یہ بھی ممکن ہے کہ کم اہمیت والی اغراض خالی ہوتیں تو ان کے لئے کام نہ کیا جاتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر وہی ہوتیں زیادہ اہمیت والی شے نہ ہوتی تو بھی کام کیا جاتا۔بہرحال ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ کوئی وجہ مقدّم ہے اور کوئی مؤخر۔مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ تعدّدِ اغراض ناجائز ہے۔ایسا کہنا فطرتِ انسانی کے بھی خلاف ہے اور واقعات کے بھی خلاف ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی صفات کے بھی خلاف ہے۔کیونکہ فطرتِ انسانی اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے مطابق پیدا کی ہے۔ہم اپنی فطرت پر قیاس کر کے سمجھ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات بھی اسی رنگ میں جاری ہوتی ہیں۔اور صرف صفاتِ الٰہی پر غور کر کے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے۔بعض لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر فرض کرو ایک ہی غرض ہوتی تو کیا وہ شخص کام کرتا یا نہ کرتا؟ ہم کہتے ہیں ضرور کرتا۔اس پر وہ کہتے ہیں تو پھر تم اور اغراض اس کےساتھ کیوں شامل کرتے ہو۔ہمارا جواب یہ ہے کہ اس امر کا فیصلہ کہ وہ کام کس غرض سے تھا کام کرنے والے کے بیان پر منحصر ہے۔اگر اس نے ایک کام دو۲ اغراض سے کیا ہے اور وہ دو۲ اغراض منطقی طور پر اس کام کی غرض بن سکتی ہیں توبہرحال ہمیں اس کی بات کو تسلیم کرنا ہو گا اور اس پر اعتراض کرنے والا بے وقوف ہو گا۔ہمارا کوئی حق نہیں ہو گا کہ ہم کہیں کہ صرف فلاں غرض اس کام کی تھی باقی سب غرضیں باطل ہیں۔