تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 391

احترام اور (۲) قریش کا ایلاف۔مگر میں نے ایک تیسری وجہ بھی بتا دی جو میرے نزدیک ان دونوں وجوہ سے مقدّم اور زیادہ اہم تھی۔پس یہ اعتراض اور بھی بڑھ گیا کہ پہلے دو وجوہ بتائی گئی تھیں مگر اب اسی کام کی ایک تیسری وجہ بھی بتائی جارہی ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے معنوں کی وجہ سے یہ اعتراض زیادہ پختہ نہیں ہو گیا بلکہ بالکل مٹ گیا ہے۔وجہ یہ کہ میں نے اصحاب فیل کی تباہی کی دو۲ وجوہ بتائی تھیں میں نے کہا تھا کہ پہلی سورۃ میں ایک تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کا ذکر ہے اور ایک خانۂ کعبہ کے احترام کا ذکر ہے۔پس جب تعدّد جائز ہو گیا تو جہاں ایک کام کی دو غرضیں ہو سکتی ہیں وہاں تیسری غرض بھی ہو سکتی ہے۔میرے معنوں سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ ایک کام دو اغراض کے لئے بھی ہو سکتا ہے۔جب ایک کام دو اغراض کے لئے ہو سکتا ہے تو ایک کام تین اغراض کے لئے بھی ہو سکتا ہے۔فرض کرو ایک شخص لائل پور سے چلا ہے اور اس کا ارادہ یہ ہے کہ راولپنڈی سے سودا خریدے مگر پھر اسے خیال آتا ہے کہ چلو پشاور چلوں وہاں میرے بعض رشتہ دار رہتے ہیں اس طرح دونوں کام ہو جائیں گے۔پشاور سے میں سودا بھی خرید لوں گا اور اپنے رشتہ داروں سے بھی مل لوں گا۔تو یہ تعدّدِ اغراض بالکل درست ہو گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ خانۂ کعبہ کا احترام بھی ظاہر کرنا چاہتا ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام بھی ظاہر کرنا چاہتا ہے بلکہ میرے نزدیک مقدّم غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام ظاہر کرنا تھی۔اب اس نے ایک تیسری غرض بھی بیان کر دی ہے کہ ہم نے یہ نشان اِيْلٰفِ قُرَيْشٍ کے لئے بھی ظاہر کیا تھا اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں۔جس طرح ایک ہی سفر کی تین غرضیں بھی ہوسکتی ہیں سودا بھی خرید لیا جائے، رشتہ داروں سے بھی مل لیا جائے اور کسی دوست سے بھی ملاقات کرلی جائے اسی طرح اصحابِ فیل کی تباہی بھی تین اغراض کے لئے ہو سکتی ہے۔جب دنیوی کاموں میں تعدّدِ اغراض کو جائز سمجھا جاتا ہے جائز ہی نہیں بلکہ بعض دفعہ مستحسن خیال کیاجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے بھی اگر ایک کام کی تین اغراض بتادیں تو اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔پس لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ کے جو معنے بصری نحویوں نے کئے ہیں ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔اصحابِ فیل کی تباہی سورۂ فیل کی بتائی ہوئی اغراض کے علاوہ قریش کی دلجمعی اور تسلّی کے لئے بھی ہو سکتی تھی اور یہ سورۃ بتاتی ہے کہ اس تباہی میں یہ غرض بھی مخفی تھی۔بعض لوگ تعدّد اغراض کے خلاف فلسفیانہ رنگ میں اعتراض کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ایک کام کی اگر کئی اغراض ہوں تو ان میں سے کوئی مقدّم اور اہم ہو گی اور جب کوئی غرض اہم اور مقدّم ہو گی تو باقی سب ضمنی رہ جائیں گی مقصود ان میں سے کوئی بھی نہ ہو گی۔اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہیے کہ خالص فلسفہ ایک لغو اور بے ہودہ شے ہے جو محض کتابوں تک محدود ہوتا ہے ورنہ دنیا میں تمام باتیں ہوتی ہیں۔دیکھنا یہ نہیں کہ فلسفی کیا کہتا ہے دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کیا