تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 385
سُوْرَۃُ قُرَیْشٍ مَکِّیَّۃٌ سورۃ قریش۔یہ سورۃ مکی ہے۔وَ ھِیَ اَرْبَعُ اٰیَاتٍ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَفِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے سوا چار آیتیں ہیں اور ایک رکوع ہے۔سورۃ قریش کے دو نام اس سورۃ کے دو نام ہیں اسے قریش بھی کہتے ہیں اور اس کا ایک نام حدیثوں میں لِاِیْلَافٍ بھی آتا ہے(بخاری کتاب التفسیر باب وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ) لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ درحقیقت تین لفظ ہیں لیکن بعض لوگ جن کو پورے معنے نہیں آتے وہ غلطی سے لِاِيْلٰفِ کو ایک اور قُرَيْشٍ کو دوسرا لفظ سمجھ لیتے ہیں۔یہ تو خیر جہلاء کی بات ہے معنوں کے لحاظ سے علماء بھی اس آیت کے معنوں میں مشکلات محسوس کرتے چلے آتے ہیں۔سورۃ قریش مکی سورۃ ہے مستشرقین اس سورۃ کو مکی قرار دیتے ہیں لیکن ضحاک اور کلبی دونوں نے اسے مدنی قرار دیا ہے(فتح البیان سورۃ قریش ابتدائیۃ) ابن عباسؓ کی روایت یہ ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے۔چونکہ ضحاک اور کلبی دونوں صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں اس لئے میرے نزدیک بھی اس کا مکی ہونا ثابت ہے کیونکہ ایک صحابی کی روایت بہرحال زیادہ صحیح مانی جائے گی۔وہ شخص جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ہو لازماً وہ تاریخ زیادہ صحیح طور پر بتا سکتا ہے اور بعد میں آنے والوں کی روایت اس کے مقابلہ میں بغیر دلیل کے کوئی وقعت نہیں رکھ سکتی حضرت ابن عباسؓ کی روایت سےباقی مفسرین نے بھی اتفاق کیا ہے اور مستشرقینِ یورپ بھی عام طور پر اسے مکی قرار دیتے ہیں بلکہ بعض اسے نہایت ابتدائی سورتوں میں سے سمجھتے ہیں۔چنانچہ نولڈکے جرمن مستشرق اسے مکی قرار دیتا ہے اورساتھ ہی کہتا ہے کہ یہ نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہے۔نولڈکے کا خیال ہے کہ یہ سورۃ الفیل کے زمانہ کی ہے وہیری نے بھی اپنی تفسیر میں اسے مکی قرار دیا ہے۔(A Coprehensive Commentary on The Quran by Wherry vol:4, page 282) ہمارے مفسرین اور مستشرقین میں یہ فرق ہے کہ مفسرین اپنے دعویٰ کی بنیاد تاریخ پر رکھتے ہیں لیکن مستشرقین بجائے تاریخ پر بنیاد رکھنے کے مضمون اور عبارت سے نتائج اخذ کرتے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ وہ قرآن کریم کا