تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 384

تفسیر۔اَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا اَبَابِيْلَ سے مراد ابرہہ کے لشکر پر ان کے مرنے کے بعد گدھوں وغیرہ کا اترنا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس تباہی کا نقشہ کھینچا ہے جو اصحاب الفیل پر آئی۔آپ لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ چیلیں اور گدھ اور کوے اور دوسرے مردار خور جانور جب کوئی بوٹی کھاتے ہیں تو کس طرح کھاتے ہیں۔وہ مردار کی بوٹی توڑ کر ایک طرف جا بیٹھتے ہیں اور پتھر پر بیٹھ کر کبھی اسے ایک طرف سے مارتے ہیں کبھی دوسری طرف سے۔اور اس طرح بار بار اس کو پتھر پر مارنے کے بعد کھاتے ہیں۔یہی کیفیت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میںظاہر کی ہے اور بتایا ہے کہ جب ہم نے چیچک سے ان کو مار دیا تو چونکہ وہ ہزاروں ہزار تھے اس لئے مردوں کے ڈھیروں پر گروہ در گروہ اور جماعت در جماعت چیلیں اور گدھ اور کوے اور دوسرے مردار خور جانور اکٹھے ہو گئے۔اور وہ بڑے بڑے جرنیل اور کرنیل جن کے اردگرد ہروقت پہرے رہتے تھے اور جو بڑی بڑی اعلیٰ وردیاں پہن کر اکڑ اکڑ کر چلتے تھے ان کی بوٹیاں نوچ نوچ کر اور پتھروں پر مار مار کر کھانے لگے۔غالباً کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہو گا جس نے اپنی زندگی میں یہ نظارہ نہ دیکھا ہو کہ چیلیںاور گدھ کس طرح بوٹی کھاتے ہیں۔ہم نے تو ہزار ہا دفعہ دیکھا ہے ان کا یہی طریق ہوتا ہے کہ وہ بوٹی کو توڑ کر اینٹ یا پتھر پر جا بیٹھتے ہیں اور پھر اس بوٹی کو چونچ میں مضبوطی سے پکڑ کر پتھر پر مارتے ہیں۔کبھی اس طرف سے اور کبھی اس طرف سے۔شاید اس لئے کہ وہ مار مار کر اسے نرم کرنا چاہتے ہیں یا اس کی کوئی اور وجہ ہے بہرحال وہ کرتے اسی طرح ہیں۔ابرہہ کا لشکر بھی جب چیچک سے مر گیا تو مردار خور جانور اکٹھے ہو گئے اور انہوںنے ان کی بوٹیاں توڑ توڑ کر اور پتھروں پر مار مار کر کھانی شروع کر دیں اس کے بعد کیا ہو االلہ تعالیٰ فرماتا ہے فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۔اس نے انہیں دانہ کھائے ہوئے سٹے کی طرح کر دیا جس طرح اندر سے گندم کو کیڑا کھا جائے اور اوپر کا صرف چھلکا باقی رہ جائے۔اسی طرح ان کی کیفیت ہو گئی۔ان کا گوشت سب گدھیں اور چیلیں اور کوے کھا گئے اورباقی صرف ہڈیاں رہ گئیں یا چمڑا اور سر کے بال رہ گئے۔یہ وہ واقعہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں بیان فرمایا اور جو تمام آیات کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔افسوس ہے کہ مفسرین نے بجائے اس کے کہ حقیقت پر غور کرتے ایسے ایسے لاطائل اور بے بنیاد اور لغو قصے اس کے متعلق اپنی تفسیروں میں بھر دیئے ہیں کہ جن کو پڑھ کر انسان کی اپنی عقل بھی حیران ہوتی ہے اور دشمن کو بھی اسلام پر ہنسی اڑانے کا موقع ملتا ہے۔