تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 383

ہیں۔ایک عرب شاعر کہتا ہے أَرَبٌّ یَبُوْلُ الثُّعْلُبَانُ بِرَاْسِہٖ لَقَدْ ہَانَ مَنْ بَالَتْ عَلَیْہِ الثَّعَالِبُ یعنی کیا وہ رب ہو سکتا ہے جس کے سر پر گیدڑ پیشاب کر جائیں۔وہ چیز تو بہت ہی ذلیل ہے جس کے سر پر گیدڑ پیشاب کر جائے اور وہ اپنے آپ کو اس سے بچا بھی نہ سکے۔یہ دراصل ایک صحابی کا شعر ہے جو انہوں نے اپنے زمانۂ بت پرستی میں کہا تھا۔وہ ایک دفعہ بت کو اپنے ساتھ لے کر کسی سفر پر جارہے تھے کہ راستہ میں انہیں پانی کی ضرورت محسوس ہوئی۔پانی کچھ فاصلہ سے مل سکتا تھا۔انہوں نے اسباب کو ایک جگہ رکھا اور چاہا کہ وہ جا کر پانی لے آئیں مگر پھر خیال آیا کہ میرے اسباب کی کون حفاظت کرے گا اگر پیچھے سے کوئی شخص آیا اور اسباب اٹھا کر لے گیا تو میں کیا کروں گا۔اس پر انہوں نے بُت کو نکال کر اسباب کے پاس رکھ دیا اور اس سے کہا حضور میں تو پانی لینے چلا ہوں میرے آنے تک اسباب کی حفاظت فرمائیں۔انہوں نے سمجھا کہ بت سے زیادہ اچھا محافظ اور کون ہو سکتاہے۔مگر جب واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک گیدڑ ٹانگ اٹھا کر اس بت کے سر پرپیشاب کر رہا ہے۔یہ دیکھ کر ان کے دل میں ایسی سخت نفرت پیدا ہوئی کہ انہوں نے بُت کو وہیں پھینکا اور یہ شعر کہا کہ اَرَبٌّ یَبُوْلُ الثُّعْلُبَانُ بِرَاْسِہٖ لَقَدْ ہَانَ مَنْ بَالَتْ عَلَیْہِ الثَّعَالِبُ کیا وہ بت بھی رب ہو سکتاہے جو اپنے سر کو پیشاب سے نہیں بچا سکتا۔گیدڑ آتا ہے اور ٹانگ اٹھا کر اس پر پیشاب کر دیتا ہے مگر اس میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ اپنے سر کو ہی پیشاب سے بچا سکے۔اس شعر میں بِرَاْسِہٖ کے الفاظ ہیں مگر مراد یہ ہے کہ سر پر۔اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ (اٰل عمران:۷۶) اگر تو اسے ایک ڈھیر پر امین بنائے۔اس جگہ بھی باء کے معنے ساتھ کے نہیں بلکہ پر کے ہیں۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ يَتَغَامَزُوْنَ (التطفیف:۳۱) اس کے بھی لفظی معنے تو یہ ہیں کہ جب وہ ان کے ساتھ گذرتے ہیں۔مگر مراد یہ ہے کہ جب وہ ان پر سے گذرتے ہیں تو آنکھیں مارتے ہیں۔پس تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ کے معنے یہ ہوئے کہ وہ ان کو ایسے پتھروں پر مارتے تھے جو جلے ہوئے تھے۔