تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 382
لفظ استعمال کر لیا جائے گا چنانچہ عربی زبان کا یہ محاورہ ہے کہ جَاءَتِ الْـخَیْلُ اَبَابِیْلَ جس کے معنے جَـمَاعَاتٌ مِّنْ ھٰھُنَا وَ ھٰھُنَا کے ہیں یعنی جماعت در جماعت اور گروہ در گروہ گھوڑے آئے کچھ یہاں سے اور کچھ وہاں سے۔اسی طرح اگر انسانوں کا کوئی بہت بڑا لشکر جمع ہو تو اسے بھی ابابیل کہہ دیں گے اور مراد یہ ہو گی کہ بٹالین کے بعد بٹالین اور فوج کے بعد فوج آتی چلی گئی۔پھر اس کے ایک معنے ’’جماعاتِ عظام‘‘ کے بھی ہوتے ہیں یعنی بڑی بڑی جماعتیں۔اور ابابیل کے معنے اَقَاطِیْعُ تَتَّبِعُ بَعْضُھَا بَعْضًاکے بھی ہوتے ہیں (فتـح البیان زیر آیت ھذا) یعنی بڑے بڑے ٹکڑے جو ایک دوسرے کے بعد متواتر آتے چلے جائیں۔پس اَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا اَبَابِيْلَ کے یہ معنے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف پرندے بھیجے جماعت در جماعت۔کچھ یہاں سے کچھ وہاں سے وہ بڑے بڑے ٹکڑوں میں باری باری آتے تھے اور گروہ در گروہ تھے(اقرب)۔اس میں اسی طرف اشارہ ہے کہ چیچک سے اس لشکر میں سخت موت پڑی اور لاشیں میدان میں چھوڑ کر باقی لوگ بھاگ گئے اور چاروں طرف سے گدھ اور چیل آکر وہاں جمع ہوگئے تا ان کی لاشوں سے نوچ نوچ کر گوشت کھائیں۔سِـجِّیْلٌ۔سِـجِّیْلٌ چکنی مٹی کے ڈلے کی طرح کے پتھر کو کہتے ہیں(جامع البیان زیر آیت ھذا) لیکن لغت کے بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ کلمہ معرّب ہے اور سنگ ِگل سے بنا ہے جو فارسی زبان کا لفظ ہے یعنی پتھر اور مٹی۔عرب چونکہ گ نہیں بول سکتے اس لئے جب فارسی سے عربی زبان میں یہ لفظ گیا تو سنگ کی بجائے سنج اور گِل کی بجائے جِل بن گیا(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا)۔پس سِـجِّیْلٌ کے معنے ہیں ایسا پتھر جو کئی پتھر کے ٹکڑوں اور مٹی کی تہوں سےبنا ہوا ہو یا پکی ہوئی مٹی کا پتھر جسے پنجابی زبان میں کھنگر کہتے ہیں۔تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ کے معنے عام محاورہ کے مطابق تو یہ ہیں کہ ان پر سجیل مارتے تھے لیکن اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کو سجیل پر مارتے تھے۔اور چونکہ مردار خور پرندوں کا یہ عام قاعدہ ہے کہ وہ مردہ کا گوشت لے کر پتھر پر بیٹھ جاتے ہیں اور گوشت کو بار بار پتھر پر مارتے جاتے اور کھاتے جاتے ہیں نہ معلوم اسے نرم کرتے ہیں یا اس کی صفائی کرتے ہیں۔بہرحال چیلوں اور گدھوں کا یہ عام قاعدہ ہے کہ وہ گوشت کو کھاتے ہوئے پتھر پر مارتے جاتے ہیں۔اس لئے یہی درست ہے کہ باء کے معنے اس جگہ’’پر‘‘ کے لئے جائیں خصوصاً جبکہ یہ ثابت ہے کہ یہ لوگ چیچک سے مرے تھے اور ان کی لاشیں تمام میدان میں پھیل گئی تھیں۔پس آیت کا یہ مطلب ہے کہ مردار خور پرندے وہاں جمع ہو گئے اور انہوں نے ان کی بوٹیاں نوچ نوچ کر اور پتھروں پر مار مار کر کھانی شروع کر دیں۔باء کے معنے جو اس جگہ عَلٰی کے کئے گئے ہیں یہ لغت سے بھی ثابت ہیں اور استعمالِ قرآن سے بھی ثابت