تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 381
گے کہ زید دیر سے کھڑا ہے اور آئندہ بھی اس کے کھڑا رہنے کی امید ہے۔اسی طرح اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِيْ تَضْلِيْلٍ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس نے عیسائیوں کا منصوبہ صرف اس وقت باطل نہیں کیا جب وہ خانۂ کعبہ پر حملہ کرنے کے لئے آئے تھے۔بلکہ اس نے بعد میں بھی ایک لمبے عرصہ تک ان کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا اور ان کی قوت کو کچل دیا تا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑھنے اور پنپنے کا موقع ملے اور آپؐکی ترقی کے راستہ میں کوئی روک واقع نہ ہو۔چنانچہ اسلام کے مقابلہ میں عیسائی ایک لمبے عرصہ تک مغلوب رہے۔مگر پھر قرآن کریم کی ہی پیشگوئیوں کے مطابق دوبارہ عیسائیوں کو غلبہ حاصل ہوا۔اور اب الٰہی فیصلہ یہ ہے کہ وہ مسیحیت کو دوسری شکست انشاء اللہ ہمارے ہاتھ سے دے گا۔وَّ اَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا اَبَابِيْلَۙ۰۰۴ اور (پھر) ان (کی لاشوں) پر جُھنڈ کے جُھنڈ پرندے بھیجے۔تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ۪ۙ۰۰۵ (جو) ان (کےگوشت) کو سخت قسم کے پتھروں پر مارتے (اور نوچتے) تھے۔فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍؒ۰۰۶ اس طرح اس نے انہیں غلہ کے بیرونی چھلکے کی طرح کر دیا جس کے اندر کا دانہ کھایا گیا ہو۔حلّ لُغات۔اَبَابِيْلَ جمع ہے جس کا مفرد کوئی نہیں لیکن بعض کے نزدیک اس کا مفرد اِبّول ہے۔(جامع البیان زیر آیت ھذا) اَبَابِيْلَ کے متعلق عوام الناس یہ سمجھتے ہیں کہ اس جگہ ابابیل وہی پرندہ مراد ہے جسے اردو زبان میں بھی ابابیل کہتے ہیں مگر یہ درست نہیں۔جس پرندے کو ہم ابابیل کہتے ہیں عربی زبان میں اسے ابابیل نہیں بلکہ خفّاش کہتے ہیں(لسان العرب)۔پس اس جگہ ابابیل سے کوئی خاص پرندہ مراد نہیں بلکہ اس کے معنے فِرَقٌ یعنی جماعتوں کے ہیں اور طَيْرًا اَبَابِيْلَ سے مراد یہ ہے کہ ’’جماعت در جماعت‘‘ اور ’’گروہ در گروہ‘‘ پرندے آئے۔یہ لفظ انسانوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور حیوانوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہےاور پرندوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے(القاموس الـمحیط)۔اگر گروہ در گروہ گھوڑے کسی جگہ کھڑے ہوں تو ان کے متعلق بھی ابابیل کا