تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 378
کی ترقی کے امکانات بالکل مٹ جائیں۔اس زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کا عام رجحان مسیحیت موعودہ اور مہدویت کی طرف تھا کیونکہ زمانۂ مسیحیت بالکل قریب آچکا تھا۔پہلی بارہ۱۲ صدیوں کو دیکھو اور پھر پچھلی ایک صدی کو دیکھو تو تمہیں معلوم ہو گاکہ گذشتہ بارہ۱۲ صدیوں میں جتنے مہدویت کے مدعی گذرے ہیں اس سے دس گنا زیادہ مدعی صرف پچھلی ایک صدی میں ہوئے ہیں۔یہ دس گنا فرق ثبوت ہے اس بات کا کہ مسیحیت اور مہدویت کے زمانہ کے قرب کی وجہ سے لوگوں میں ایک رَو پیدا ہونی شروع ہو گئی تھی چنانچہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیسائیت کو اپنے متعلق فکر پیدا ہو گئی تھی اسی طرح اس زمانہ میں بھی اس رَ وکو دیکھ کر عیسائیت کو فکر پڑ گئی اور اس نے سمجھا کہ اس طرح عیسائیت اسلام کے مقابلہ میں کمزور ہو جائے گی۔لیکن جس طرح اس زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت نے حبشہ کی عیسائی حکومت میں پناہ لی جس کا ایک گورنر خانۂ کعبہ کو گرانے کے لئے آیا تھا۔اسی طرح اس دوسرے زمانہ میں بھی مہدیٔ موعودؑ نے انہی کے سایہ تلے پناہ پائی جن کو مہدویت کے کچلنے کی فکر تھی۔قادیان کے متعلق ایک اعتراض اور اس کا جواب اس جگہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والی یہ بات ہے کہ بعض مخالفین یہ اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ قادیان کو جماعت احمدیہ اپنا مقدّس مقام قرار دیا کرتی تھی مگر وہ اس وقت ہندوؤں اور سکھوں کے قبضہ میں ہے۔ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس وقت قادیان سے احمدیوں کا نکالا جانا بھی درحقیقت اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے اور گو بظاہر یہ فعل ہندوستانیوں کا نظر آتا ہے لیکن اصل میں یہ ساری کارروائی لارڈ مونٹ بیٹن مسیحی کی ہے۔چنانچہ سب سے پہلے اس کے متعلق میں نے مضامین لکھے تھے کہ گورداسپور کا علاقہ انڈین یونین میں صرف کشمیر کی خاطر شامل کیا گیا ہے اور لارڈ مونٹ بیٹن کا اس میں یقینی ہاتھ ہے۔لیکن اب گورنمنٹ پاکستان کے بعض افسروں اور ہندوستان سے باہر رہنے والوں نے بھی کئی مضامین میںیہ لکھا ہے کہ گورداسپور کا علاقہ جو ہندوستان کو دیا گیا وہ درحقیقت اسی لئے دیا گیا تھا تاکہ کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ ملایا جا سکے۔لیکن اس سورۃ سے ہمارے دلوں کی ڈھارس بندھتی ہے اور یقین ہوتا ہے کہ جس طرح اصحابِ فیل پہلی دفعہ تباہ ہوئے اب بھی تباہ ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا الہام ہے کہ شخصے پائے من بوسید ومن گفتم کہ سنگِ اسود منم (تذکرہ صفحہ۳۶) ایک شخص نے میرے پاؤں کو چوما اور میں نے کہا ہاں ہاں سنگِ اسود میں ہی ہوں۔درحقیقت ہر زمانہ کا مامور اس کی جماعت کے لئے سنگِ اسود کا رنگ رکھتا ہے کیونکہ لوگ اسے چومتے اور اس کے اردگرد اکٹھے رہتے ہیں اور اس طرح