تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 376

اعلانوں پر اعلان ہو رہے ہیں کہ ہم یہود کو مار ڈالیں گے مگر تیاری کچھ نہیں تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب لڑائی کا وقت آیا تو دشمن نے جیتنا شروع کر دیا۔اب کہا جاتا ہے کہ مسلمان کیا کریں۔برطانیہ اور امریکہ نے تو سامان بھیجنا بند کر دیا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ آج سے سال بھر پہلے تو انہوں نے سامان بھیجنا بند نہیں کیا ہوا تھا۔پھر کیا وجہ ہے کہ انہوں نے آج سے سال بھر پہلے تیاری نہ کی؟ اور آج یہ شکوہ کر رہے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ نے ہمیں سامان بھجوانا بند کر دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کو یہ یقین ہوتا کہ خدا ان کی اسی رنگ میں مدد کرے گا جس طرح اس نے ابرہہ کے مقابلہ میں خانۂ کعبہ کی کی تو یقیناً وہ عمل بھی کرتے۔وہ قربانی اور ایثار سے بھی کام لیتے اور اسلام کی ترقی کے لئے اپنی ہر چیز قربان کر دیتے۔اگر وہ ایسا کرتے تو خدا تعالیٰ کی نصرت ان کی طرف دوڑتی ہوئی آجاتی۔مگر قربانی کا مادہ یوں ہی تو پیدا نہیں ہو جاتا۔قربانی ہمیشہ یقین کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔جس شخص کو یقین ہو کہ دشمن اسے شکست نہیں دے سکتا وہ قربانی کرنے پر دلیر ہوتا ہے اور جس شخص کو یقین ہو کہ اگر وہ مر بھی گیا تو وہ جنت میں جائے گا وہ بھی اپنی کسی چیز کو قربان کرنے میں دریغ نہیں کرتا۔بہرحال یقین ہی ایک ایسی چیز ہے جو جرأت پیدا کرتی ہے۔یقین ہی ایک ایسی چیز ہے جو قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کرتی ہے اور یقین ہی ایسی چیز ہے جو بڑی بڑی مشکلات میں انسان کے قدم کو متزلزل ہونے سے بچاتی ہے۔اور ایک مسلمان کے یقین کو اس سے زیادہ مضبوط کرنے والی اور کیا شے ہو سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ۔اے مسلمان! تجھے پتہ ہے یا نہیں کہ اصحابِ فیل کے ساتھ ہم نے کیا کیا۔اگر تجھے اس واقعہ کا علم ہے تو تُو عیسائیت کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر کیوں مایوس ہوتا جا رہا ہے تیرا خدا آج بھی وہی خدا ہے جو اصحاب فیل کے وقت تھا۔وہ خدا مفلوج نہیں ہو گیا، وہ خدا مسلول نہیں ہو گیا، وہ خدا بڈھا نہیں ہو گیا، وہ خدا ناکارہ نہیں ہو گیا، اس خدا کی طاقتیں ماری نہیں گئیں، وہ خدا اب بھی ویسا ہی زندہ ہے جیسے پہلے زندہ تھا اور اب بھی ویسی ہی طاقتیں رکھتا ہے جیسی پہلے طاقتیں رکھتا تھا۔جب تمہارا زندہ اور طاقتور خدا موجود ہے تو تم یہ خیال بھی کس طرح کر سکتے ہو کہ وہ اس مصیبت میں تمہاری مدد نہیں کرے گا اور اسلام کی کشتی کو منجدھار میں چھوڑ دے گا۔اگر یہ یقین اور ایمان کسی کے دل میں پیدا ہو جائے تو مال اور جان کی قربانی اس کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔وہ اپنی جان کی قربانی بھی بےحقیقت سمجھتا ہے۔اپنے بیوی بچوں کی جان کی قربانی بھی بے حقیقت سمجھتا ہے اور اپنی جائیداد کی قربانی بھی بےحقیقت سمجھتا ہے۔آج مسلمان اگر پھر اپنے اندر ایسا یقین پیدا کر لیں تو آج بھی وہ دنیا کی ایک بڑی طاقت بن سکتے ہیں اور بڑی بات تو یہ ہے کہ اگر وہ قربانی اور ایثار کا یہ نظارہ دکھائیں تو ان کے ایمان کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ بھی آسمان سے ان کی مدد کے لئے اتر آئے اورکہے کہ میرے