تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 373
پاکستان بن جانے کی وجہ سے اس مسجد کی آبادی کا بھی کوئی سامان ہو گیا ہو ورنہ اس سے پہلے تو یہ ہمیشہ ویران پڑی رہتی تھی۔اب کیا مسلمانوں کا حق ہے کہ اس بناء پر کہ عیسائیوں نے ان کی ایک مسجد کی ہتک کی تھی یروشلم کا گرجا جا کر گرادیں۔اگر وہ اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہوں تو ہم ان کے جواب کی معقولیت کو تسلیم کر لیں گے۔لیکن اگر یروشلم کا گرجا گرانا تو الگ رہا اس کے گرانے کا ذکر سن کر بھی ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے تو یہ کون سا انصاف ہے کہ ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ صنعاء کے گرجا میں ایک پاگل عرب نے پاخانہ کر دیا تھا اس لئے ابرہہ کے لئے یہ جائز ہو گیا تھا کہ وہ عربوں کے مقدّس ترین مقام خانۂ کعبہ پر جا کر حملہ کر دے۔یقیناً اس نے جو کچھ کیا وہ ایک ظالمانہ فعل تھا اور ظالم کو ضرور سزا ملنی چاہیے تھی چنانچہ خدا تعالیٰ نے اسے سزا دی۔سورۃ الفیل میں آخری زمانہ کے متعلق پیشگوئی میں جیسا کہ اوپر بتا چکا ہوں اس سورۃ میں درحقیقت آخری زمانہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے اور مسلمانوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے بھی پہلے عیسائی دنیا نے آپ کے دین کو روکنے اور اس کی ترقی کے امکانات کو مسدود کرنے کی کوشش کی تھی۔چنانچہ جب وہ علامات انہیں نظر آئیں جن سے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ نبیٔ عربی دنیا میں پیدا ہونے والا ہے تو انہوں نے خانۂ کعبہ کا رخ کیا تاکہ عرب جس نقطۂ مرکزی پر جمع ہو سکتے ہوں اسے توڑ دیا جائے اور وہ موعود جس کا عرب میں شدت کے ساتھ انتظار کیا جارہا تھا اس کے راستہ میں روکیں پیدا ہو جائیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے احترام اور آپ کے اعزاز میں خانۂ کعبہ کو گرنے نہیں دیا۔اللہ تعالیٰ اس نشان کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ پھر ایک زمانہ میں عیسائی دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت اور آپ کی قوت کو مٹانے کی کوشش کرے گی اور تسلّی دیتا ہے کہ تمہیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔جس خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے سے بھی پہلے آپ کا ادب اور احترام کیا تھا اس خدا کے متعلق کون یہ خیال بھی کر سکتا ہے کہ وہ آپؐکی پیدائش کے بعد، آپؐکے دعوٰیٔ نبوت کے بعد، آپ کی بے مثال اور حیرت انگیز قربانیوں کے بعد، آپؐکی خدا تعالیٰ سے بےانتہا محبت کے اظہار کے بعد، آپ کی اعلیٰ درجے کی نیک اور پاک جماعت دنیا میں قائم ہو جانے کےبعد، آپ کی کامل اور ہرقسم کے نقائص سے منزہ شریعت لوگوں کے سامنے پیش ہو جانے کے بعد، آپؐکے دین اور مذہب کے تمام دنیا میں پھیل جانے کے بعد، اب اس ہتک کو برداشت کر لے گا کہ اسے تباہ ہونے دے اور دشمن کو اس کے بدارادوں میں کامیاب کر دے۔کوئی عقلمند جو ذرا بھی ان واقعات پر نگاہ رکھنےو الا ہو وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان رکھتے ہوئے ایک لحظہ کے لئے بھی یہ بات نہیں مان سکتا کہ اس مقابلہ