تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 368

نشان دکھانا چاہیے تھا تو یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی پٹھان حدیث پڑھ رہا تھا تو اس میں یہ ذکر آگیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ نماز پڑھتے ہوئے اپنے نواسہ حضرت امام حسن کو گود میں اٹھا لیا جب آپ رکوع کے لئے گئے تو آپ نے بچے کو اتار کر ایک طرف بٹھا دیا۔دوسری طرف اس نے فقہ میں یہ مسئلہ پڑا ہوا تھا کہ حرکت سے نماز ٹوٹ جاتی ہے جب اس نے حدیث میں یہ واقعہ پڑھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسن کو نماز پڑھتے اپنی گود میں اٹھا لیا اور رکوع کے وقت اسے اتار دیا تو کہنے لگا ’’خو محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا‘‘۔کسی سننےو الے نے اسے جواب دیا کہ بے وقوف نماز تو سکھائی ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہے ان پر کس طرح اعتراض ہو سکتا ہے۔اسی طرح یہ فیصلہ کرنا کہ نشان مسیحیوں کی تائید میں دکھایا جائے یا مسیحیوں کے خلاف دکھایا جائے خدا تعالیٰ کا کام ہے۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ نشان خدا تعالیٰ نے دکھایا ہے تو اس کے بعد یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ نے نعوذباللہ بڑی بے وقوفی کی کہ مسیحیوں کی تائید میں اس نے نشان نہ دکھایا ویسی ہی بات ہے جیسے پٹھان نے کہہ دیا تھا کہ ’’خو محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔‘‘اگر تمہاری عقل میں ایک بات نہیں آتی تب بھی جبکہ ثابت ہو کہ یہ واقعہ اتفاقی نہ تھا تمہیں ماننا پڑے گا کہ تم جو کچھ سمجھتے ہو یہ تمہاری عقل کی غلطی ہے خدا تعالیٰ کی عقل بہرحال تمہاری عقل پر مقدم ہے۔گو دنیا میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی عقل کو خدا کی عقل سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ابھی تھوڑے دن ہوئے ایک گریجوایٹ جو وکیل بھی تھا مجھ سے ملنے کے لئے آیا اور اس نےمجھ سے بعض سوالات کئے۔جب میں نے اس کے تمام سوالات کا جواب دے کر بتایا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خدا تعالیٰ ہے یا نہیں اگرخدا تعالیٰ ہے تو پھر اعتراض نہیں ہو سکتا۔کیونکہ پھر سوال یہ ہو گا کہ آپ کی عقل مقدم ہے یا خدا تعالیٰ کی تو اس پر وہ صاحب بے اختیار ہو کر بولے کہ میری عقل مقدم ہے۔یہ بات سن کر ان کے ساتھی بھی ہنس پڑے کہ یہ کیسی خلاف عقل بات ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ تمام اعتراضات کے دور ہو جانے کے بعد بھی اگر وہ اپنی بات کو سچا ثابت کر سکتے تھے تو اسی طرح کہ یہ کہتے کہ خدا تعالیٰ سے میں زیادہ عقل مند ہوں۔اگر اس نے ایک بات کی ہے اور میری عقل اسے نہیں مانتی تو میں اسے کیوں قبول کروں۔یہی پادری وہیری کی حالت ہے کہ وہ اسے اتفاقی حادثہ بھی نہیں کہہ سکتے۔وہ اس واقعہ سے انکار بھی نہیں کر سکتے۔لیکن اعتراض یہ کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مسیحیوں کو کیوں مارا اور ان کے مقابل پر مشرکین مکہ کو کیوں نہ مارا۔لیکن بہرحال ایسے شخص کو بھی جواب دینا پڑتا ہے اس لئے میں اس کے اعتراضات کا جواب دیتا ہوں۔پہلا جواب یہ ہے کہ اس کا یہ کہنا کہ مسیحی تو اہل کتاب تھے اور مکہ کے لوگ بت پرست۔پھر مسیحیوں پر کیوں عذاب آیا اور بت پرستوں کو اللہ تعالیٰ نے کیوں بچا لیا خود بڑی بے دینی اور جہالت کی بات ہے۔بھلا خدا کو مسیحی یا