تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 363
قرار نہیں دے گا۔اگر کوئی شخص ہم پر اعتراض کرے کہ وجہ کیا ہے کہ دو چار سو حاجی سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور تم اسے عذاب قرار نہیں دیتے؟ تو ہم کہیں گے صرف یہی ایک جہاز تو نہیں تھا جو آج حاجیوں کو لے کر گیا ہر سال کئی کئی جہاز حاجیوں کو لے کر جاتے ہیں اور ان میں سے اکثر سلامتی کے ساتھ اپنی منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اگر آج کوئی جہاز غرق ہو اہے تو یہ ایک اتفاقی حادثہ ہے جو اسے پیش آگیا عذاب نہیں۔اگر عذاب ہوتا تو اکثروں پر نازل ہوتا۔اسی طرح اگر حج کے لئے جاتے ہوئے کسی کو ہیضہ ہو جاتا ہے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اس پر عذاب نازل ہو ااور جب ہم سے کوئی پوچھے کہ تم اسے عذاب کیوں نہیں قرار دیتے؟ تو ہمارا جواب یہی ہو گا کہ ہرسال دو چار لاکھ حاجی حج کے لئے جاتا ہے اور قریباً سارے کا سارا سلامتی کے ساتھ مکہ پہنچ جاتا ہے اگران میں سے ایک دو کو ہیضہ ہو گیا ہے تو یہ بہرحال ایک اتفاقی حادثہ ہے اگر اکثر مر جاتے تو بے شک شبہ ہو سکتا تھا کہ کہیں یہ خدائی عذاب نہ ہو مگر اکثروں کا بچ جانا اور صرف ایک دو کا مرنا ثبوت ہے اس بات کا کہ جو کچھ پیش آیا وہ ایک اتفاقی حادثہ تھا اس سے بڑھ کر اس کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔اسی طرح وہیری اس واقعہ کے متعلق بھی کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا اور چونکہ اتفاقی طو رپر یہ مصیبت آگئی تھی اس لئے اسے عذاب قرار نہیں دیا جا سکتا۔اور چونکہ اسے عذاب قرار نہیں دیا جا سکتا اس لئے اس واقعہ سے خانۂ کعبہ کی عظمت اور اس کی بڑائی کا استدلال کرنا بھی درست نہیں اور یقیناً اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر یہ اتفاقی حادثہ ثابت ہو جائے تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ابرہہ پر عذاب آیا اور نہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے خانۂ کعبہ کی عظمت کا ثبوت ملتا ہے ہمارے یہ دونوں دعوے غلط ثابت ہو جائیں گے۔غرض پادری وہیری کا اعتراض اسی صورت میں درست ہو سکتا ہے اگر ابرہہ کی تباہی کو اتفاقی حادثہ قرار دیا جا سکے۔اس لئے سب سے پہلے ہم یہی دیکھتے ہیں کہ آیا یہ کوئی اتفاقی حادثہ تھا؟ جو باتیں اس سورۃ کی تفسیر میں مَیں پہلے کہہ چکا ہوں وہ کافی سے بھی زیادہ اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ ہم اسے ہرگز اتفاقی حادثہ نہیں کہہ سکتے اس لئے کہ خانۂ کعبہ کی حفاظت اور اس کے محفوظ رہنے کا وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے چلا آتا ہے اور عرب لوگ اس بات کے مدعی تھے کہ خانۂ کعبہ پر کوئی شخص حملہ نہیں کر سکتا اگر کرے گا تو خدا خود اس گھر کو اس کے حملہ سے بچائے گا۔چنانچہ ابرہہ کا واقعہ اس کا ثبوت ہے اور حضرت عبدالمطلب نے اسے اسی امر کی طرف توجہ دلائی تھی جب ابرہہ نے انہیں کہا کہ تمہارے دو سو۲۰۰ اونٹ جو میری فوج پکڑ کر لے آئی ہے تم ان دو سو اونٹوں کو تو مانگتے ہو اور خانۂ کعبہ جو تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا معبد ہے اس کے متعلق کچھ نہیں کہتے تم کیسے جاہل اور عقل سے کورے انسان ہو۔تو حضرت عبدالمطلب نے اسے یہی جواب دیا کہ میرا سوال ہی آپ کے اس اعتراض کو ردّ کر دیتا ہے۔میرا سوال یہ