تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 361

دوسری بے جوڑ بات یہ ہے کہ خود تاریخ مانتی ہے کہ صنعاء کے گرجا کی ہتک کی گئی اور اس میں کسی عرب نے پاخانہ کر دیا۔اسی طرح تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ اس گرجا کو آگ لگائی گئی اور یہ آگ لگانے والے بھی عرب تھے۔پس قصور سراسر عربوں کا تھا۔عربوں نے ایک معبد کی ہتک کی اور پھر خدا کی عبادت گاہ کو آگ لگانے کی کوشش کی۔مگر قرآن کریم کا خدا نعوذ باللہ ایسا بے سمجھ ہے کہ جو گرجا کی ہتک کا بدلہ لینے کےلئے گیا تھا اس پر تو عذاب نازل کر دیا اور جنہوں نے ایک معبد کی ہتک کی تھی اور بلاوجہ قوم کو اشتعال دلایا تھا ان کی تائید کر دی۔یہ عجیب خدا ہے کہ جو مظلوم تھا اس پر اس نے عذاب نازل کر دیا اور جو ظالم تھا اس کی تائید کر دی۔جو خدا کو ماننے والے تھے ان کو تو مار دیا اور جو مشرک اور بت پرست تھے ان کو بچا لیا۔پادری وہیری Wherry جس کے اعتراضات کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے ایک امریکن پادری تھا جس کی بڑی عمر لدھیانہ میں گذری۔اس نے قرآن کریم کی ایک تفسیر بھی لکھی ہے(تفسیر القرآن از وہیری مقدمہ صفحہ ۸) اور گو اس کا نام تفسیر ہے مگر حقیقتاً وہ تمام عیسائی معترض جنہوں نے کبھی اور کسی زمانہ اور کسی ملک اور کسی زبان میں اسلام پر اعتراض کئے تھے وہ تمام اعتراضات اس نے اس کتاب میں جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ایک ایسا انسان جس کو قرآنی علوم کی واقفیت ہو اور جو اس کے وسیع مطالب کا صحیح رنگ میں علم رکھتا ہو اس کے لئے یہ ایک دلچسپ تفسیر ہے۔کیونکہ یہ اتنی بے جوڑ، اتنی لغو، اتنی دور از کار اور اتنی پیش پا افتادہ باتوں پر مشتمل ہے کہ انہیں پڑھ کر حیرت آتی ہے۔اور تعجب آتا ہے کہ وہ انسان جس نے یہ تعلیم دی تھی کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تُو اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دے(متی باب ۵ آیت ۳۹) اس کے پیروؤں کا آج اگر عمل ہے تو اس بات پر کہ جس نے تیری سات پشت کو بھی تھپڑ نہیں مارا تو اس کو بھی اور اس کی سات پشت کو بھی تھپڑ مار۔اس سورۃ کے نیچے اسے اعتراض کرنے کے لئے اور تو کچھ نہیں ملا کیونکہ اس کے نزدیک یہ صرف ایک قصہ ہے گو ہمارے نزدیک صرف قصہ نہیں کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم میں کوئی بات بطور قصہ بیان نہیں اگر وہ کسی گذشتہ قصہ کو بیان بھی کرتا ہے تو درحقیقت اس میں آئندہ کے متعلق پیشگوئی ہوتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ گویہ واقعہ پیچھے ہو چکا ہے مگر آئندہ زمانہ میں بھی ایک اسی قسم کا واقعہ ہونے والا ہے۔بہرحال اس کو صرف ایک گذشتہ قصہ تسلیم کرنے کی وجہ سے اسے اور تو کوئی اعتراض نہیں سوجھا صرف یہ اعتراض سوجھا ہے کہ یہ عجیب بات ہے کہ قرآن اس کو نشان قرار دیتا ہے حالانکہ یہ کیسا نشان ہوا کہ جن کو سزا ملی وہ اہلِ کتاب میں سے تھے جو قرآن کریم کے نزدیک بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ایک سچی کتاب پر ایمان رکھنے والے تھے اور جن کے مقابلہ میں یہ معجزہ دکھایا گیا وہ مکہ کے بت پرست اور مشرک