تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 353
میں لوگوں میں ایک عام حرکت پیدا ہو گئی تھی اور عیسائی مسیحؑ کا اور مسلمان مہدی کااور دوسری قومیں اپنے اپنے موعود کا انتظار کرنے لگ گئی تھیں۔چونکہ عیسائیوں کو بائبل اور اولیاء کی پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ نبی عرب میں پیدا ہوگا اس لئے ان میں گھبراہٹ تھی کہ اب ایک شدید حملہ مسیحیت پر ہونے والا ہے۔چنانچہ بخاری اور دوسری کتب احادیث میں صاف لکھا ہے کہ قیصرِ روما اس وقت ستاروں کو دیکھا کرتا تھا تا اسے معلوم ہو کہ مختون نبی (یعنی عرب) کب پیدا ہو گا۔اس بارہ میں جو حدیث آتی ہے اس میں لکھا ہے کہ قیصر روما شام میں تھا کہ اس نے ایک دن ستاروں کو دیکھا اور کہا ان ستاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی جس کی خبر کتابوں میں دی گئی ہے وہ عنقریب ظاہر ہونےو الا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغی خط اسے پہنچا تو ابوسفیان ان دنوں وہیں تھا وہ خود کہتا ہے کہ قیصرِ روما نے مجھے بلایا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام حالات مجھ سے پوچھے اور پھر اس نے اپنی قوم سے کہا مجھے تو یہ وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کی خبر ہماری پیشگوئیوں میں پائی جاتی ہے۔اسی طرح حدیثوں میںآتا ہے کہ اس نے ایک دن ستاروں میں دیکھا اور کہا کہ نبیٔ مختون عنقریب ظاہر ہونے والا ہے(بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی )۔میں سمجھتا ہوں جب قیصرِ روما نے ستاروں کو دیکھ کر یہ بات کہی تو ابوسفیان نے اپنے زمانہ کے خیالات کے مطابق یہ سمجھ لیا کہ جیسے نجومی پیشگوئی کرتے ہیں اسی طرح قیصرِ روما نے ستاروں کو دیکھ کر یہ بات کہی ہے۔حالانکہ نہ اس قسم کے نجومی دنیا میں ہوتے ہیں اور نہ وہ پیشگوئیاں کرتے ہیں۔یہ ساری بات ہی غلط ہے اصل بات جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ عظیم الشان خبریں جو نبیوں کے متعلق ہوتی ہیں ان میں آنے والے نبی کی علامت کے طور پر بعض ایسی خبریں بھی ہوتی ہیں جوستاروں اور سیاروں سے تعلق رکھتی ہیں۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے مہدی کی دو علامتیں ایسی ہیںکہ جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں یہ دو علامتیں کسی مدعی کی تصدیق کے لئے ظاہر نہیں ہوئیں۔اور وہ یہ کہ رمضان کے مہینہ میں چاند کو اس کے گرہن کی تاریخوں میں سے پہلی رات اور سورج کو اس کے گرہن کی تاریخوں میں سے دوسری تاریخ گرہن لگے گا (دارقطنی کتاب العیدین باب صفۃ صلوٰۃ الخسوف والـکسوف وھیئتمھا) اب اگر کوئی شخص سورج اور چاند کو گرہن لگتے دیکھ کر یہ کہے کہ میں نے سورج اور چاند کو دیکھ کر یہ سمجھا ہے کہ مہدویت کا مدعی ظاہر ہو گیا ہے یا عنقریب ظاہر ہونے والا ہے تو کیا کوئی شخص اس کا یہ مطلب لے گا کہ اس نے سورج اور چاند کی شکل دیکھ کر یہ اندازہ لگایا ہے یا سورج اور چاند کی حرکتوں سے اس نے یہ پیشگوئی معلوم کی ہے۔وہ کہے گا یہی کہ میں نے سورج اور چاند کو دیکھ کر یہ سمجھا ہے۔مگر اس کی مراد یہ ہو گی کہ سورج اور چاند کے متعلق جو پیشگوئی تھی اس کو پورا ہوتے دیکھ کر میں نے یہ سمجھا