تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 352

(استثناء باب ۱۸ آیت ۱۵)صاف بات ہے کہ جب بنو اسحاق کو یہ کہا گیا کہ تمہارے بھائیوں میں سے موسیٰ کی مانند ایک نبی آئے گا تو اس سے مراد بنو اسمٰعیل کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔جیسے اگر سیدوں کو یہ کہا جائے کہ ’’تمہاری بھائی قوم میں سے‘‘ تو اس سے سید مراد نہیں ہو سکتے یا پٹھانوں کو یہ کہا جائے کہ ’’تمہاری بھائی قوم میں سے‘‘ تو اس سے پٹھان مراد نہیں ہو سکتے یا مغلوں کو یہ کہا جائے کہ ’’تمہاری بھائی قوم میں سے‘‘ تو اس سے مغل مراد نہیں ہو سکتے۔بہرحال کوئی دوسری قوم مراد ہو گی۔اسی طرح ہر شخص جانتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے معروف قبائل یا بنواسحاق تھے یا بنو اسماعیل، جب بنو اسحاق کو یہ کہا گیا کہ تمہارے بھائیوں میں سے ایک نبی کھڑا کیا جائے گا جو موسیٰ کی مانند ہو گا۔جیسا کہ استثناء میں یہ پیشگوئی موجود ہے تو اس کے صاف معنے یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ کسی زمانہ میں بنو اسماعیل میں نبی کھڑا کرے گا۔اور تورات سے پتہ چلتا ہے کہ بنو اسماعیل عرب میں جا کر بسے ہیں۔اس کے متعلق بائبل کے بہت سے حوالے ہیں۔یسعیاہ نبی کی کتاب میں بھی جہاں وہ عرب کے متعلق پیشگوئی کرتے ہیں بنو اسمٰعیل کا خاص طور پر نام آتا ہے گویا یسعیاہ نبی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بنو اسمٰعیل عرب میں بسے ہوئے تھے۔غرض ایک طرف بائبل یہ بتاتی ہے کہ بنو اسمٰعیل عرب میں تھے اور دوسری طرف بائبل یہ پیشگوئی کرتی ہے کہ بنو اسحاق کے بھائیوں یعنی بنو اسمٰعیل میں سے ایک نبی آئے گا۔ان دونوں پیشگوئیوں کو ملا کر یا پیشگوئی کے دونوں گروپوں کو ملاکر صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک نبی بنو اسماعیل میں آنےو الا تھا۔پس جب اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت قریب آگیا تو لوگوں میں اس آنے والے موعود کے متعلق ایک عام چرچا شروع ہو گیا۔اس کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے متعلق گذشتہ اولیاء نے بھی بہت سی پیشگوئیاں کی ہوئی تھیں اور لوگ ان کا علم رکھتے تھے۔درحقیقت اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ عظیم الشان پیشگوئیاں جہاں انبیاء سے کراتا ہےو ہاں انبیاء کے بعد آنے والے اولیاء سے بھی ان کے متعلق کئی قسم کی پیشگوئیاں کرادیتا ہے اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بہت سی پیشگوئیاں یہودی کتب میں ایسی پائی جاتی ہیں جو بائبل میں نہیں اور جو درحقیقت یہود کے اولیاء نے کی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق بھی بیسیوں پیشگوئیاں ایسی ہیں جو امت محمدیہ کے اولیاء نے کی ہیں۔اہم اور بنیادی پیشگوئیاں تو انبیاء کے ذریعہ ہی ہوتی ہیں لیکن بعض چھوٹی چھوٹی کیفیتیں اللہ تعالیٰ اولیاء کے ذریعہ بھی بیان کر دیتا ہے اور اس طرح تمام دنیا مختلف پیشگوئیوں کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے موعود کا انتظار کرنے لگتی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا زمانہ قریب آگیا تو الٰہی سنت کے مطابق عام طبائع میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ اب کوئی ظہور ہونے والا ہے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قریب زمانہ