تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 31

متعلق کتابیں لکھیں گے اور لوگوں سے بحثیں کریں گے کہ صحیح خیالات یہی ہیں تمہیں بھی اپنے سابق خیالات میں تبدیلی پیدا کرنی چاہیے۔تھوڑے ہی دن ہوئے سوویٹ روس کے متعلق میں نے ایک عجیب بات پڑھی۔جس طرح عیسائی تثلیث کا عقیدہ رکھنے کے باوجودیہ دعویٰ کرتے ہیں کہ توحید کامل عیسائیت نے ہی پیش کی ہے اسی طرح سوویٹ روس نے بھی طریق تو کچھ اور اختیار کیا ہوا ہے لیکن اپنے کام کا نام کچھ اور رکھا ہوا ہے۔اس کے ایک اخبار نے لکھا کہ لوگ ہمارے متعلق اعتراض کرتے ہیں کہ روس میں شادی کا دستور کم ہے گو حکومت کسی کو شادی کرنے سے روکتی نہیں اور اس لحاظ سے یہ اعتراض بالکل غلط ہے کہ اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو جتنی بدکاری شادی سے پھیلتی ہے اتنی مسٹرس رکھنے سے نہیں پھیلتی۔اس نظریہ کو دیکھ کر حیریت آتی ہے اور سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر مسٹرس رکھنا بد کاری نہیں تو وہ بدکاری کا مفہوم کیا سمجھتے ہیں۔یہی حال دوسرے ممالک کا ہے کہ علی الاعلان عیاشی، آزادی اور لا مذہبی وغیرہ کے خیالات لوگوں میں پھیلائے جاتے ہیں اور وہ باتیں جو پہلے سینوں میں چھپا کر رکھی جاتی تھیں اب الم نشرح ہونے لگ گئی ہیں۔(۶) چھٹے معنے یہ ہیں کہ اس زمانہ میں سائنس کی ایجادات کثرت سے ہوں گی اور زمین اپنے چھپے ہوئے راز نکال کر رکھ دے گی۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ علامت بھی اس زمانہ میں نمایاں طور پر پوری ہوئی ہے چنانچہ ہر سال حیرت انگیز طور پر کئی قسم کی ایجادات ہوجاتی ہیں اور یہ سلسلہ برابر بڑھتا چلا جارہا ہے درحقیقت سائنس نام ہے زمین کے اثرات کے کیمیاوی نتائج کا۔اور یہ کیمیاوی نتائج وہ اَثْقَال ہیں جو زمین میں مخفی تھے۔اﷲ تعالیٰ نے اس زمانہ میں سائنس کی بکثرت ایجادات کے ذریعہ ان اَثْقَالکو نکال کر رکھ دیا ہے اور کوئی سال ایسا نہیں گذرتا جس میں قرآن کریم کی اس آیت کی صداقت ظاہر نہ ہوتی ہو کہ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا۔وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ۰۰۴ اور انسان کہہ اٹھے گا کہ اسے کیا ہوگیا ہے۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زمین اپنے اَثْقَال کو نکال باہر کرے گی یہاں تک کہ ان سب چیزوں کو دیکھ کر انسان حیرت سے کہہ اٹھے گا کہ مَالَھَا۔اسے کیا ہوگیا ہے اس دنیا میں کیا کچھ راز پوشیدہ تھے جو ظاہر ہورہے ہیں اور کیا کیا چیزیں مخفی تھیں جن کو زمین اگل رہی ہے۔