تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 341
جن قوموں میں چیچک یا ایسی ہی وبائی امراض ہوا کرتی ہیں وہ ان کے علاج بھی جانتی ہیں۔حضرت عمرؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں جب حضرت ابوعبیدہ بن جراح کو شام کی طرف کمانڈر انچیف بنا کر بھجوایا تو وہاں طاعون پھیل گئی انہوں نے وہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ جب طاعون ہو تو تم کیا کیا کرتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم پہاڑوں پر ادھر ادھر پھیل جاتے ہیں۔یہ سن کر بعض صحابہؓ نے کہا کہ ہمیں بھی پہاڑوں پر چلے جانا چاہیے اور اس جگہ کو چھوڑ دینا چاہیے ٹھنڈک میں یوں بھی طاعون کا اثر کم ہو جاتا ہے جب صحابہؓ اس خیال کی طرف مائل ہوئے تو حضرت ابوعبیدہ نے ان سے کہا کہ کیا تم خدا کی تقدیر سے بھاگتے ہو؟ اس پر ایک صحابی نے جواب دیا کہ ہم خدا کی تقدیر سے خدا کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں یعنی ہم جہاں جاتے ہیں وہاں بھی تقدیر الٰہی ہی ہو گی۔اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہم تقدیر سے بھاگ رہے ہیں۔چیچک کا بھی یہی علاج سمجھا جاتا ہے کہ جہاں یہ مرض ہو اس مقام کو چھوڑ دیا جائے اور ادھر ادھر کھلی جگہوں میں لوگ پھیل جائیں(The Encylopedia Britannica "Small pox")۔جس وقت لشکر میں چیچک پیدا ہوئی تو لشکر والوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں ادھر ادھر منتشر ہو جانا چاہیے۔مگر اس میں مشکل یہ پیش آگئی کہ مکہ کے اردگرد کی تمام وادیاں غیرآباد ہیں اور وہ اتنی پیچیدہ ہیں کہ میلوں میل تک جنگل پھیلتے چلے جاتے ہیں اور کچھ پتہ نہیں چلتا کہ راستہ کدھر جاتا ہے۔جب لشکر بھاگ کر ادھر ادھر کی وادیوں میں پھیلا تو نتیجہ یہ ہو اکہ بوجہ غیرآباد اور سخت پیچیدہ اور جنگل ہونے کے وہ راستہ بھول گئے اور چونکہ طائف کے راہنما خود بھاگ گئے تھے انہیں کوئی راستہ دکھانے والا نہ رہا اور بجائے یمن کی طرف جانے کے کوئی مدینہ کی طرف نکل گیا، کوئی نجد کی طرف چلا گیا، کوئی کسی اور علاقہ کی طرف چل پڑا۔ان کو پتہ ہی نہیں لگتا تھا کہ ہمارا ملک کس طرف ہے۔اور بہت سے لوگ تو انہی وادیوں میں بھٹک بھٹک کر بھوکے اور پیاسے مر گئے۔اسی افراتفری اور گھبراہٹ میں وہ سامان بھی جو ان کے ساتھ تھا انہوں نے وہیں پھینک دیا اور خود بے سر و سامانی کی حالت میں ادھر ادھر بھٹکنے لگے۔اس سے زیادہ مشکل ان کو بیماروں کے متعلق پیش آئی۔انہوں نے سمجھا کہ اگر ہم بیماروں کو یہیں پھینک کر چلے جاتے ہیں تو وہ کھائیں گے کہاں سے اوران کی تیمارداری کون کرے گا اور اگر ساتھ لے جاتے ہیں تو کس طرح ساتھ لے جائیں اورکہاں لے جائیں۔چنانچہ کئی لوگوں نے توا پنے بیماروں کو وہیں پھینکا اور خود ادھر ادھر بھاگ گئے۔اس طرح وہ بیمار بھوکے پیاسے تڑپ تڑپ کر مر گئے۔اور جن لوگوں نے بیماروں کو اپنے ساتھ لیا تھا اوّل تو ان کے لئے سفر کرنا مشکل ہو گیا۔پھر چونکہ یہ متعدی مرض تھا وہ خود بھی چیچک میں مبتلا ہو گئے اور اس طرح ان کا اکثر حصہ اس مرض کا شکار ہو گیا۔ابرہہ بھی اس تباہی کو دیکھ کر بھاگا۔وہ چونکہ بادشاہ تھا اس لئے معلوم ہوتا ہے اس نے بعض راہنما اپنے رعب