تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 340
کی طرف کرتے تو وہ چل پڑتا، شمال کی طرف کرتے تو وہ چل پڑتا، مشرق کی طرف کرتے تو وہ چل پڑتا مگر مکہ کی طرف منہ کرتے تو بیٹھ جاتا۔یہ دیکھ کر ان پر سخت گھبراہٹ طاری ہوئی وہ مارتے رہے اور اسے اٹھانے کی کوشش کرتے رہے مگر وہ نہ اٹھا۔اس وجہ سے لشکر کے چلنے میں بہت دیر ہو گئی(جامع البیان سورۃ الفیل )۔اتنے میں بادشاہ کو خبر پہنچی کہ لشکر میں بعض سپاہیوں کےجسم پر چیچک نمودار ہو گئی ہے۔چیچک کی مرض حبشیوں کی مخصوص مرض ہے۔بعض امراض بعض ملکوں سے مخصوص ہوتی ہیں۔چیچک اصل میں حبشہ سے آئی ہے اور اسی ملک کی مخصوص بیماری ہے جس طرح آتشک اصل میں یورپ سے آئی ہے (The New Encyclopedia Britannica Under word "Syphilis") اسی لئے عربی کتب میں آتشک کو داء الافرنج کہتے ہیں یعنی یوروپین لوگوں کی بیماری۔چونکہ مکہ والے خدا کے گھر کو چھوڑ کر چلے گئے تھے اور اب خدا کے گھر اور اس لشکر کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تھی صرف خدا ہی تھا جو اس گھر کی حفاظت کر سکتا تھا اس لئے خدا اس کام کو کرنے کے لئے آگیا۔مگر چیچک کی صورت میں جو حبشیوں کے لئے سب سے زیادہ مہلک ہوتی ہے۔بادشاہ کے پاس رپورٹ کی گئی کہ لشکر میں وبا پھیل گئی ہے۔ہاتھی پہلے ہی اٹھ نہیں رہا تھا اس سے دلوں میں اور بھی گھبراہٹ پیدا ہوئی اور اس دن لشکر کی روانگی کو ملتوی کرنا پڑا(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام امر الفیل و قصۃ النسأۃ)۔تاریخوں میں اس کے متعلق تفصیل تو نہیں آئی مگر اتنا ضرور ثابت ہے کہ اس دن لشکر ٹھہر گیا۔غالباً اس لئے کہ ہاتھی نہیں چلتے تھے لیکن شام تک اور پھر دوسرے دن تک تو ہزاروں ہزار آدمی چیچک میں مبتلا ہو کر تڑپنے لگا اور دوسرے تیسرے دن ان میں موتیں بھی شروع ہو گئیں۔عربوں میں اس سے پہلے چیچک کا کوئی کیس نہیں ہوا تھا اور وہ جانتے ہی نہیں تھے کہ یہ مرض کیا ہے۔طائف کے جو لوگ ابرہہ کے لشکر کےساتھ اس لئے شامل ہو گئے تھے کہ اس طرح ان کے مندر کی عظمت بڑھ جائے گی ان میں بھی چیچک پھوٹ پڑی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ اس غداری کی سزا ہے جو انہوں نے خانۂ کعبہ کے ساتھ کی۔جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں یہ مرض سخت متعدی ہے اور ایک سے دوسرے کو لگ جاتی ہے۔جو لوگ ابھی تک تندرست تھے انہیں بھی دوسرے بیماروں سے یہ مرض لگ گئی اور تمام لشکر میں ایک کھلبلی مچ گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عرب جو ابرہہ کے لشکر کےساتھ اس لئے آئے تھے کہ اسے رستہ دکھائیں وہ بھاگ نکلے میں بتا چکا ہوں کہ عرب اس مرض سے ناواقف تھے اور وہ جانتے ہی نہیں تھے کہ چیچک کیا بلاء ہے اگر وہ اس مرض سے واقف ہوتے تو سمجھتے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ ہے مگر چونکہ وہ اس مرض کو جانتے نہیں تھے اس لئے انہوں نے سمجھا کہ یہ خدا کا عذاب ہے اور واقعہ میں وہ عذاب ہی تھا مگر اس عذاب کی طرف مرض سے ناواقفیت کی وجہ سے ان کی توجہ بہت جلد پھر گئی اور وہ ڈر کر بھاگ گئے۔