تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 336

کیونکہ مہاوت پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے اور بادشاہ کی جان کی حفاظت اس کے ذمہ ہوتی ہے مگربہرحال یہ عہدہ ویسا تو نہیں جیسے کرنیل یا جرنیل کا عہدہ ہوتا ہے اس کی حیثیت ایک بڑے شافر جیسی سمجھنی چاہیے مگر چونکہ اس کی بات سنی جاتی تھی اس لئے ذونفر نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں انیس سے آپ کی ملاقات کرا دوں۔حضرت عبدالمطلب کو اس وقت کوئی راہ نظر نہ آتی تھی آپ نے اس کی بات کو بھی خوشی سے قبول کیا۔اس پر ذونفر نے انیس کو بلوا بھیجا اور اس سے کہا کہ عبدالمطلب قریش کے سردار ہیں اور غریبوں کا خاص خیال رکھنے والے ہیں۔انسان چھوڑ جانوروں تک کو کھانا کھلاتے ہیں ان کے دو سو اونٹ شاہی سوار پکڑ کر لے آئے ہیں۔ان کو بادشاہ سے ملواسکو اور کوئی نیک سفارش ان کے متعلق کر سکو تو کوشش کرو۔اس نے کہا بہتر ہے اور وہ حضرت عبدالمطلب کو اپنے ساتھ لے گیا۔پرانے زمانہ میں یہ طریق تھا کہ جب جانور وغیرہ ذبح کئے جاتے تو لوگ ان کا کچھ حصہ چیلوں اور کتوں کے لئے بھی رکھ لیتے تھے۔اب بھی بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔ان کے اسی وصف کی طرف اس وقت ذونفر نے اشارہ کیا اور کہا کہ یہ انسانوں کا بھی خیال رکھتے ہیں اور دوسرے جانوروں کا بھی خیال رکھتے ہیں۔وہ انہیں اپنے ساتھ لے گیا اور شاہی خیمہ کے دروازہ کے پاس جا کر اس نے کہا حضور اجازت دیں عبدالمطلب جو مکہ کے رئیس ہیں وہ آپ سے ملنے کے لئے آئے ہیں۔پھر اس نے وہی بات دہرائی جو ذونفر نے کہی تھی کہ یہ بڑے محسن ہیں تمام انسانوں اور غریبوں کی خوراک کا خیال رکھتے ہیں بلکہ وحشی جانوروں تک کی غذا کا اہتمام کرتے ہیں اور پھر یہ فقرہ بھی بڑھا دیا کہ حضور ان کی طرف نظرِ التفات رکھیں بادشاہ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی۔حضرت عبدالمطلب بڑے مضبوط، قوی الجثہ، لمبے قد والے، چوڑے چکلے جسم والے اور سفید رنگ کے انسان تھے جب آپ خیمہ ٔ دربار میں داخل ہوئے اور ابرہہ نے اپنے سامنے ایک نہایت وجیہ خوبصورت، چوڑے چکلے جسم والا قد آور اور مضبوط انسان پایا تو وہ آپ کی شکل اور قد و قامت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔(حبشہ کے لوگوں کا قد چھوٹا ہوتا ہے) چنانچہ آپ کے داخل ہوتے ہی وہ کھڑا ہو گیا۔اس کے بعد اس نے پہلے تو یہ چاہا کہ آپ کو اپنے ساتھ ہی تخت پر بٹھا لے مگر پھر خیال آیا کہ اگر میں نے انہیں اپنے ساتھ تخت پر بٹھا لیا تو حبشی قوم ناراض ہو جائے گی کہ شاہی مقام کی بے حرمتی کی گئی ہے مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ آپ کو نیچے بٹھائے اور خود اونچا بیٹھا رہے۔آخر خیمہ میں جو قالین بچھا ہوا تھا اس پر وہ خود بھی بیٹھ گیا اور حضرت عبدالمطلب کو بھی اس نے اپنے ساتھ بٹھا لیا اور ترجمان کوبلا کر کہا کہ ان سے کہو کہ مجھے آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی ہے۔آپ یہ بتائیں کہ آپ کے آنے کی کیا غرض ہے اور آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔ترجمان نے ان سے کہا کہ بادشاہ سلامت کہتے ہیں مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے اور وہ دریافت کرتے ہیں کہ آپ کس