تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 331
پاس سے گذرتے تو اسے پتھر مارتے یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ یہ لعنتی آدمی ہے۔جس نے اپنے مذہب اور قوم سے غداری کرکے ابرہہ اور اس کے لشکر کو راستہ دکھایا۔ابرہہ کا لشکر کہاں تک پہنچا اور آیا وہ مغمس مقام سے بھی آگے بڑھا ہے یا نہیں، اس کے متعلق تاریخوں میں اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک وہ حدودِ حرم سے باہر ہی رہا۔بعض کہتے ہیں کہ وہ عرفات تک پہنچا۔اس طرح مکہ سے وہ گیارہ بارہ میل تک پہنچ گیا تھا۔بعض اسے اور بھی قریب بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابرہہ اور اس کا لشکر مزدلفہ کے قریب تک پہنچ گیا تھا۔اس لحاظ سے مکہ سے وہ صرف سات آٹھ میل دور رہا۔بہرحال مغمس تک تو ساری تاریخیں متفق ہیں اور بتاتی ہیں کہ وہاں تک ضرور پہنچا اور مغمس کا فاصلہ زیادہ سے زیادہ پندرہ سولہ میل کا ہو گا۔سنن ابی داؤد کی روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب طائف کی طرف گئے (غزوۂ حنین کے موقعہ پر) تو ہم ایک قبر کے پاس سے گذرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبر کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ ابورغال کی قبر ہے جو ثقیف بھی کہلاتا تھا اور ثمود قوم میں سے تھا۔یہ مکہ کی حفاظت کے لئے آیا تھا۔جب واپس اپنے شہر کی طرف گیا تو وہی عذاب جو اس کی قوم کو پہنچا تھا اسے بھی پہنچا اور وہ مر گیا اور اس جگہ دفن ہوا۔(ابو داؤد کتاب الـخراج والفیء والامارۃ باب نبش القبور) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابورغال ابرہہ کا راہنما نہ تھا بلکہ مکہ کے محافظین میں سے تھا۔کیونکہ آپؐفرماتے ہیں یہ مکہ کی حفاظت کے لئے آیا تھا۔لیکن دوسری روایت بتاتی ہے کہ وہ ابرہہ کو راستہ دکھانے آیا تھا۔یہ دونوں روایتیں بظاہر بالکل بے جوڑ معلوم ہوتی ہیں کیونکہ ایک روایت تو اسے خانۂ کعبہ کا دشمن بتاتی ہے اور تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ عرب اس کی قبرکو پتھر مارا کرتے تھے(روح المعانی زیر آیت ۱تا ۵) مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ ابورغال مکہ کی حفاظت کے لئے آیا تھا۔اس پر بعض نے تو کہا ہے کہ ان میں سے صرف ایک روایت صحیح ہے۔چنانچہ وہ سنن ابی داؤد میں بیان شدہ روایت کو صحیح تسلیم کرتے ہیں دوسری روایت کو غلط بتاتے ہیں۔لیکن بعض کہتے ہیں کہ دوسری روایت بھی تاریخی لحاظ سے اس قدر یقینی ہے کہ ہم اسے غلط نہیں کہہ سکتے(روح المعانی زیر آیت ۱تا ۵)۔اس مشکل کا حل مفسرین نے اس طرح کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ دوالگ الگ شخص تھے مگر دونوں کا نام ایک تھا۔ایک ابورغال وہ تھا جو مکہ کی حفاظت کے لئے آیا تھا اور ایک ابورغال وہ تھا جو ابرہہ کا راہنما بن کر آیا تھا۔پس قبریں بھی دو الگ الگ تھیں۔اگر الگ الگ نہ ہوتیں تو قبر دکھاتے وقت جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ یہ مکہ کا محافظ تھا تو اہل عرب آپ سے یہ نہ پوچھتے کہ یا رسول اللہ اس کو تو ہم پتھر مارا کرتے ہیں اور اسے باغی اور غدار سمجھتے ہیں اور آپ اسے