تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 328

ابرہہ نے اگر حملہ کیا تو سیاسی لحاظ سے یہ حملہ جائز تھا۔میں نے بتایا ہے کہ اس کا مارا جانا بالکل اور چیز ہے یہ عرب کا باشندہ تھا اور ایک عرب نے ہی اس کو مارا تھا اور قومی طور پر نہیں ذاتی طور پر مارا تھا۔خزاعہ قبیلہ یمن کے ماتحت نہیں تھا کہ اسے حملہ کی کوئی سیاسی وجہ بنایا جا سکتا۔جب ابرہہ نے لشکر جمع کرنا شروع کیاتو اللہ تعالیٰ نے اس معجزے کو خاص اہمیت دینے کے لئے لوگوں کی توجہ اس کی طرف پھرا دی۔اور عربوں میں مقابلہ کا ایک عام جوش پیدا ہو گیا۔پہلے یمن کے لوگوں میں جوش پیدا ہوا اور پھر انہیں دیکھ کر باقی عرب میں جوش پیدا ہو گیا۔حمیری خاندان کے جو جرنیل زندہ تھے انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سیادت قائم کرنے اور دوبارہ بادشاہت حاصل کرنے کے لئے سارے عرب میں جوش پھیلانا شروع کر دیا اور ان سے کہا کہ تم نے ہمارا ساتھ نہیں دیا تھا اب تم نے دیکھا کہ ابرہہ تمہاری قوم کو برباد کرنے اور خانہ کعبہ کو گرانے کے لئے عرب پر حملہ کر رہا ہے۔اب بھی موقع ہے اگر تم اپنی عزت کو برقرار رکھنا چاہتے ہو تو آؤ ہم سب مل کر ابرہہ کا مقابلہ کریں۔چنانچہ ذونفر حمیری اس تحریک کا لیڈر بنا۔یہ یمن کا باشندہ اور رئیس اور سابق شاہی خاندان میں سے تھا اس نے خانۂ کعبہ کی حفاظت کے نام سے یمن میں ایک عام جوش پید اکر دیا اور یمن کے تمام عرب قبائل اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔جوں ہی ابرہہ صنعاء سے نکلا یہ لشکر اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا اور دونوں لشکروں کی آپس میں مڈبھیڑ ہو گئی۔ان لوگوں میں بے شک مذہبی جوش تھا، قومی حمیّت تھی مگر یمن کی حکومت رومی حکومت کا ایک حصہ تھی اور اس کی فوج باقاعدہ تربیت یافتہ تھی۔بے شک ان میں بھی نظام تھا مگر ان کا نظام اور ابرہہ کی باقاعدہ فوج کا نظام ایسا ہی تھا جیسے انگریزی حکومت کے مقابلہ میں قبائلیوں کو پیش کیا جائے۔ان کے پاس سامان زیادہ تھا پھر وہ چھاؤنیوں میں ورزشیں کرتے رہتے تھے اور وہ ساری کی ساری فوج تنخواہ دار تھی ان کا مقابلہ کس طرح ہو سکتا تھا۔چنانچہ باوجود اس کے کہ یہ لوگ بڑی بے جگری سے لڑے اور انہوں نے اپنے مذہب کو بچانے کی کوشش کی۔مگر آخر شکست کھائی اور ابرہہ نے ذونفر کو قید کر لیا۔ابرہہ ذونفر کو قتل کرنے لگا تو اس نے کہا۔’’میرے قتل میں تو اتنا فائدہ نہ ہو گا اگر مجھے قید کر کے ساتھ رکھا جائے تو زیادہ فائدہ ہو گا۔‘‘ (جامع البیان زیر آیت تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ) یہ فقرہ بظاہر معمولی نظر آتا ہے مگر اس میں ایک بہت بڑی بات پوشیدہ ہے اور وہ بات یہ ہے کہ ذونفر کو یقین تھا کہ ابھی عرب کے اور کئی قبائل ابرہہ سے لڑنے کے لئے آئیں گے۔اور ابرہہ کے لئے مشکلات پیدا ہوں گی۔اگر میں اس کے ساتھ رہا تو اس بارہ میں کچھ کام کر سکوں گا اور بعد میں اس سے نفع اٹھاؤں گا آخر زندہ رہنے سے اسے اور کیا فائدہ ہو سکتا تھا۔اس کا یہ کہنا کہ میرے قتل میں فائدہ نہیں بلکہ قید کر کے ساتھ رکھنے میں فائدہ ہے