تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 327

وہ اس کے خلاف ہیں کیونکہ تاریخوں سے ثابت ہے کہ بعض لوگوں نے اپنے بچوں کا نام محمد رکھا ہوا تھا جیسے اسی روایت میں محمد بن خزاعی کا ذکر آتا ہے اور یہ اکیلا نام نہیں بلکہ تاریخوں سے ایسے پانچ نام ثابت ہیں۔اس کی وجہ درحقیقت وہی ہے جو میں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے پہلے اہل عرب میں بھی اور یہودیوں اور عیسائیوں میں بھی یہ احساس پیدا ہو گیا تھا کہ عنقریب کوئی ظہور ہونے والا ہے۔خود عیسائی مؤرخین نے لکھا ہے کہ ان میں یہ روایت تھی کہ آنے والے نبی کا نام محمد ہو گا۔معلوم ہوتا ہے یہودیوں اور عیسائیوں سے اس قسم کی پیشگوئیوں کو سن کر ان کا ذہن اس طرف مائل ہو اکہ جب آنے والے موعود کا نام محمد بتایا جاتا ہے تو ہم اپنے بچوں کا نام محمد کیوں نہ رکھ دیں۔شاید ہمارا بچہ ہی وہ موعود بن جائے جس کی آمد کا انتظار کیا جارہا ہے۔عیسائی کتب سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ان میں یہ ذکر تھا کہ آنے والے موعود کا نام محمد ہو گا چنانچہ برنباس کی انجیل جس کو عیسائی ہمیشہ دباتے رہے ہیں۔اس میں صاف طور پر لکھا تھا کہ محمد نامی ایک شخص ظاہر ہونے والا ہے۔پس یہ محمد نام بھی بتاتا ہے کہ اس وقت لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوچکا تھا کہ آنے والا آرہا ہے اور اس کا نام محمد ہو گا۔چنانچہ لوگ تفاول کے طور پر اپنے بچوں کا نام محمد رکھنے لگ گئے۔وہ سمجھتے تھے کہ شاید ہمارا بچہ ہی وہ خوش قسمت بچہ بن جائے جس کے متعلق تمام مذاہب میں پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں اور جس کی آمد کا شدت سے انتظار کیا جارہا ہے۔چنانچہ تاریخ سے پانچ آدمی ایسے ثابت ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب زمانہ میں ہوئے۔اور جن کا نام محمد تھا۔وہ لوگ جن کا نام تو محمد تھا مگر تاریخوں میں ان کا ذکر نہیں ان کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے قریب زمانہ کو نظرانداز کرتے ہوئے ہمیں ایسی کوئی مثال نظر نہیں آتی کہ عربوںنے اپنے بچوں کا نام محمد رکھا ہو۔ان کا پہلے اپنے بچوں کا نام محمد نہ رکھنا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کے قریب زمانہ میں ان کانام محمد رکھنا بتاتا ہے کہ اس وقت ان کےد لوں میں یہ احساس پیدا ہو چکا تھا کہ اب وہ موعود عنقریب ظاہر ہونےو الا ہے اور لوگوں نے تفاول کے طور پر اپنے بیٹوں کا نام محمد رکھنا شروع کر دیا تھا۔بہرحال ابرہہ کو جب محمد بن خزاعی کے مارے جانے کی خبر ملی تو اس کا غصہ اور بھی بھڑک اٹھا۔اور خانہ کعبہ کے گرانے کا اور بھی زیادہ خیال اسے پیدا ہوا(جامع البیان زیر آیت تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ)۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ محمدبن خزاعی کا مارا جانا اسے مکہ پر حملہ کرنے کا کوئی سیاسی حق نہیں دیتا تھا۔کیونکہ خزاعہ قبیلہ یمن کے ماتحت نہیں تھا۔عربوں کا اپنے کسی آدمی کو اس کی غداری کی وجہ سے مار دینا ابرہہ کے لئے حملہ کی کوئی سیاسی وجہ پیدا نہیں کرتا۔اپنے آدمی کو ہر قوم مار سکتی ہے گو اس کا یہ فعل ظالمانہ ہو۔یہ ذکر میں نے اس لئے کیا ہے کہ ممکن ہے کوئی کہہ دے کہ چونکہ محمدبن خزاعی کو مارا گیا تھا اس لئے