تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 323
کو ہی صدمہ نہ پہنچتا بلکہ ان کی سیاسی برتری کو بھی سخت صدمہ پہنچتا۔پس انہوں نے چاہا کہ ہم پہلے جلدی سے اس کا پتہ لے لیں تاکہ اگر واقعہ میں محمد بن خزاعی ایسا کر رہا ہو تو ہم عرب سردار مل کر اسے اس کام سے روکیں۔چنانچہ ہذیل کا سردار عروہ بن حیاض سفر کرتے کرتے وہاں پہنچا اور اس نے دیکھا کہ واقعہ میں محمد بن خزاعی خانۂ کعبہ کے خلاف پراپیگنڈا کر رہا ہے۔اس نے سمجھا کہ میں نے اب قوم سے کیا مشورہ کرنا ہے جھٹ کمان سنبھالی تیر رکھا اور ایسا نشانہ لگایا کہ محمد بن خزاعی کے سینہ میں وہ تیر لگا اور وہ اسی وقت مر گیا۔یہ دیکھ کر اس کا بھائی قیس بن خزاعی وہاں سے بھاگا اور اس نے ابرہہ کو خبر دی کہ آپ کا ایلچی محمد بن خزاعی جو تمام علاقہ کا دورہ کرتا پھرتا تھا اس کو مکہ والوں نے مار ڈالا ہے(الجامع البیان زیر آیت ھذا) (یہ سوچنے والی بات ہے کہ عربوں میں عام خیال تھا کہ محمد نامی شخص سے ان کی امیدیں وابستہ ہیں کیا ابرہہ نے محمد بن خزاعی کو اسی نام کی روایت کی وجہ سے ہی تو نہ چنا تھا کہ لوگ اس کے منہ سے یہ تحریک سن کر اس مشہور روایت کی بنا پر سمجھیں گے کہ شاید یہی وہ شخص ہے اور یہی وہ تحریک ہے جس سے عرب کی امیدیں وابستہ تھیں) اب یہ ایک اور واقعہ پیش آگیا جس پر ابرہہ کو غصہ آیا اور اس نے سمجھا کہ جب تک خانۂ کعبہ موجود ہے میرا گرجا لوگوں میں کبھی مقبول نہیں ہو سکتا۔ابن حاتم اور حلیۂ ابونعیم میں ایک اور روایت بھی بیان کی گئی ہے مگر میرے نزدیک وہ ایسی قابل اعتبار نہیں۔اس میں لکھا ہے کہ کلسوم ابن الصباح حمیری جو ابرہہ کی بیٹی کا بیٹا تھا حج کے لئے گیا۔اس جگہ میں ضمنی طور پر یہ بھی ذکر کر دینا چاہتا ہوں کہ اس روایت سے یہ پتہ لگتا ہے کہ ابرہہ نے اپنی بیٹی یمن کے پرانے شاہی خاندان میں سے ایک شخص کے ساتھ بیاہ دی تھی۔یہ وہی خاندان ہے جس کو شکست دے کر ابرہہ اور اریاط نے یمن میں عیسائی حکومت قائم کی۔بہرحال کلسوم ابن الصباح حمیری جو ابرہہ کی بیٹی کا بیٹا تھا حج کے لئے گیا۔راستہ میں اسے عربوں نے لوٹ لیا۔اس روایت پر مجھے پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ عیسائی اپنی بیٹیاں غیرعیسائیوں کو نہیں دیتے تھے۔اگر کہا جائے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ عیسائی ہی تھا تو اس کا حج کے لئے جانا بے معنی ہو جاتا ہے اور اگر وہ عیسائی نہیں ہوا تھا تو کوئی عیسائی اپنی بیٹی کسی غیر عیسائی کو نہیں دیتا تھا خصوصاً جو بڑے خاندان تھے وہ اس بارہ میں بہت احتیاط سے کام لیا کرتے تھے۔پس یہ روایت اپنی اندرونی شہادت کے لحاظ سے ہی اس قابل نہیں کہ اسے قبول کیا جائے۔بہرحال روایت بتاتی ہے کہ راستہ میں عربوں نے اسے لوٹ لیا اور جس گرجا میں وہ ٹھہرا ہوا تھا اسے بھی لوٹ لیا۔اس پر ابرہہ نے مکہ پر حملہ کیا۔یہ روایت میرے خیال میں عیسائی اثر کے ماتحت خود بنائی گئی ہے کیونکہ پیچھے جس قدر روایتیں گذر چکی ہیں ان میں سے کوئی ایک روایت بھی ایسی نہیں جو ابرہہ کو مکہ پر حملہ کرنے کا پولٹیکل حق دیتی ہو۔لیکن یہ روایت ایسی ہے جو اس کو حملہ کا پولٹیکل حق دے دیتی ہے۔اگر اس کا نواسہ