تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 321
ہوتا ہے اسے ایک حرکت سوجھی جو اچھی نہ تھی۔مگربہرحال جو کچھ ہوا خدا تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ہوا۔اس نے گرجا میں عین عبادت گاہ کے اندر جا کر پاخانہ کر دیا اور پھر کہیں ادھر ادھر بھاگ گیا۔اس بارہ میں ابن جریر کی روایت ابن اسحاق سے یہ ہے کہ جب ابرہہ نے نجاشی کو اپنے اس ارادہ سے اطلاع دی کہ وہ نئے گرجا کو سارے عرب کا مرجع بنانا چاہتا ہے اور اس وقت تک دم نہ لے گا جب تک ایسا نہ کر لے اور اس کا چرچا عربوں میں ہوا تو بنو مالک کی شاخ بنو فقیم کے ایک قبیلہ نساء کے ایک شخص کو غصہ آیا اور وہ صنعاء گیا اور اس نے قلیس گرجا میں پاخانہ کر دیا۔صبح جب نوکر صفائی کرنے کے لئے اندر گیا تو اس نے دیکھا کہ عبادت گاہ میں پاخانہ پھرا ہوا ہے۔اس نے افسروں کو اطلاع دی اور افسروں نے گورنر کو لکھا کہ اس اس طرح ہمارے مقدس مقام میں کوئی شخص پاخانہ پھر گیا ہے اور غالباً پاخانہ پھرنے والا عرب تھا کیونکہ اسی نے رات کو یہاں سونے کی ہم سے اجازت طلب کی تھی اور اب صبح سے وہ غائب ہے۔اسے یہ بھی بتایا گیا کہ یہ قریش کا کام ہے جن کو اس بات پر غصہ ہے کہ ان کی عبادت گاہ کے مقابل پر آپ نے یہ عبادت گاہ بنائی ہے۔ابرہہ کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو اسے سخت طیش آیا اور اس کے دل میں مکہ کے خلاف غصہ پیدا ہوا۔بعض کہتے ہیں کہ اس نے اسی وقت قسم کھائی کہ وہ مکہ پر چڑھائی کرے گا اور خانۂ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ الگ کر دے گا(الجامع البیان وابن کثیر زیر آیت ھذا)۔اس کے بعد بعض اور واقعات بھی ہوئے جو ابرہہ کے دل میں متواتر یہ احساس پیدا کرتے چلے گئے کہ خانۂ کعبہ کی موجودگی میں صنعاء کا گرجا کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔اس بارہ میں دوسری روایت مقاتل بن سلیمان کی ہے۔وہ روایت کرتے ہیں کہ قریش کے کچھ نوجوان صنعاء گئے جہاں یہ گرجا تھا اور وہاں کسی کام کے لئے آگ جلائی۔اتفاقاً اس دن ہوا تیز چل رہی تھی آگ کی کچھ چنگاریاں اصل عمارت کی طرف اڑ کر پہنچ گئیں اور اس میں آناً فاناً آگ لگ گئی۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس گرجا میں لکڑی کا کام زیادہ تھا۔اس کے علاوہ تاریخ سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ اس گرجا پر روغن کا بہت زیادہ کام کیا گیا تھا چونکہ روغن کو آگ بہت جلدی لگ جاتی ہے اس لئے ممکن ہے اس آگ میں زیادہ تر اس روغن کا بھی دخل ہو جو اس پر کیا گیا تھا(روح البیان)۔بہرحال یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بات پیدا ہوئی اور اس گرجے کا ایک حصہ جل گیا۔بعض روایات میں تو یہ آتا ہے کہ سارا جل گیا۔مگر بعض دوسری روایات میں ذکر آتا ہے کہ سارا گرجا نہیں جلا بلکہ اس کا صرف ایک حصہ جلا(تفسیر ابن کثیر و تفسیر بغوی زیر آیت ھذا)۔اس پر ابرہہ کے دل میں اور بھی احساس پیدا ہوا کہ جب تک خانۂ کعبہ موجود ہے اس گرجا کی عظمت اہل عرب کے دلوں میں قائم نہیں ہو سکتی۔اتفاق ایسا ہوا کہ یہ لوگ جن کی وجہ سے گرجا میں آگ لگی، یہ بھی عرب تھے اور گرجا میں پاخانہ پھرنے والا بھی عرب ہی تھا۔یہ ہم نہیں