تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 315
ایک بہت بڑا گرجا بنوایا۔یہ گرجا اتنا بلند تھا کہ اس کو دیکھتے وقت انسان کی ٹوپی گر جاتی تھی۔عربی میں کلاہ کو قلنسوہ کہتے ہیں۔چونکہ یہ گرجا ایسا تھا جس کو دیکھتے ہوئے سر پر سے ٹوپی گر جاتی تھی اس لئے عربوں نے اس کا نام قلیس رکھ دیا۔یعنی وہ گرجا جس کے دیکھنے سے ٹوپی گر جاتی ہے(عام الفیل وقصۃ ابرھۃ شـرح زرقانی ، قصۃ الفیل)۔جب گرجا بن گیا تو اس کے بعد اس نے صرف اس گرجا کی تعمیر پر ہی کفایت نہیں کی بلکہ یہ بھی کوشش شروع کر دی کہ عرب خانہ کعبہ کو چھوڑ کر قلیس کا حج کریں اور اسی کو اپنا مرکز اور مرجع قرار دے دیں۔(تفسیر ابن کثیر) اصحاب الفیل کے واقعہ کے متعلق ایک خاص مضمون کا انکشاف یہاں وہ مضمون آتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں صرف مجھ پر کھولا ہے اور جس کی طرف تیرہ سو سال تک مسلمانوں کی توجہ نہیں گئی۔وہ مضمون یہ ہے کہ یہ دو۲ سورتیں یعنی سورۃ الفیل اور سورۂ ایلاف اس حقیقت کا اظہار کرتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بلکہ آپؐکی پیدائش سے بھی پہلے آپؐکے دشمنوں اور دوستوں کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں یعنی آپؐکی آمد کی انتظار میں اگر ایک طرف آپؐکے دشمنوں نے تیاری شروع کر دی تھی تو دوسری طرف آپؐکے دوستوں نے بھی تیاری شروع کر دی تھی کہتے ہیں ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘‘۔یعنی ترقی کرنے والے وجود کی طرف شروع میں ہی نظریں اٹھنی شروع ہو جاتی ہیں۔یہ تو ایک دنیوی ضرب المثل ہے اللہ تعالیٰ کی بھی ہمیشہ سے یہ سنت چلی آئی ہے کہ جب بھی کوئی مامور آنے والا ہوتاہے اس کی بعثت سے پہلے اس کے متعلق چہ میگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں جو ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ اب وہ زمانہ بالکل قریب آگیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی موعود نے مبعوث ہونا ہے۔اگر پرانی باتیں کسی کی سمجھ میں نہ آسکیں تو اس زمانہ کو ہی دیکھ لو۔ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے سو سال میں عام طور پر مسیح موعود اور مہدیٔ معہود کے ظہور کے متعلق لوگوں میں احساس پید اہو چکا تھا اور ان میں اس کے متعلق حرکت اور بیداری پائی جاتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے بھی پہلے یہ حرکت پیدا ہوئی اور یہ حرکت کسی ایک قوم میں پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہودیوں اور عیسائیوں اور عربوں سب میں یہ احساس تھا کہ کوئی عظیم الشان ظہور ہونےو الا ہے۔عرب لوگ قیاس کرتے تھے کہ دعوۃ ابراہیمی والا موعود آنے والا ہے۔عیسائی سمجھتے تھے کہ فارقلیط آنے والا ہے یا ’’وہ نبی‘‘ جس کی خبر دی گئی تھی دنیا میں ظاہر ہونےو الا ہے اور یہودی سمجھتے تھے کہ وہ نبی جس نے انہیں غلامی سے آزادی دلانی ہے اور جس نے موسٰی کا مثیل ہونا ہے وہ دنیا میںمبعوث ہونے والا ہے۔یہودی صرف موسٰی نبی کے مثیل کی آمد کے قائل تھے اور وہ اس امید میں لگے ہوئے تھے کہ عنقریب وہ مقدس انسان جس کی نوشتوں میں خبر دی گئی تھی مبعوث ہونےو الا ہے مگر یہ پیشگوئیاں تو موسٰی کے زمانہ سے تھیں۔موسٰی نے خبر دی تھی کہ ایک