تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 313
دونوں نے آپس میں ملاقات کی اور ان خیالات کا اظہار کیا کہ اس کے نتیجہ میں ہماری قوم کو نقصان پہنچے گا۔ہمیں کوئی ایسا طریق اختیار کرنا چاہیے جس سے قوم کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور ہمارے جھگڑے کا بھی فیصلہ ہو جائے چنانچہ ان دونوں نے آپس میں یہ فیصلہ کیا کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے لڑیں جو جیت جائے اور دوسرے کو قتل کر دے وہ حکومت کرے۔چنانچہ اس فیصلہ کے مطابق وہ دونوں آپس میں لڑنے کے لئے نکلے۔فیصلہ یہ تھا کہ فوج کو ہٹا دیا جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا فوج ہٹا دی گئی اور دونوں ایک دوسرے کے سامنے آگئے اریاط نے چابک دستی سے آگے بڑھ کر ابرہہ پر ایسا کاری وار کیا کہ اس کا ناک، کان اور گلا کٹ گیا لیکن اس وقت اس کا ایک غلام جو اس سے عشق رکھتا تھا بغیر کسی کو بتائے ایک پتھر کے پیچھے چھپ کر یہ تمام نظارہ دیکھ رہا تھا۔جب اس نے دیکھا کہ اس کا آقا گر گیا ہے تو اس کی محبت نے جوش مارا اور وہ اپنے آقا کی مدد کے لئے آگے بڑھا۔ادھر اریاط ابرہہ کی طرف بڑھا کہ اسے تلوار سے مار ڈالے اور ادھر اچانک پیچھے سے ابرہہ کے غلام نے اریاط پر حملہ کر دیا اور خنجر سے اسے مار ڈالا۔اس طرح جو فاتح تھا وہ مر گیا اور مفتوح زندہ رہا۔چند دنوں کے بعد ابرہہ کے زخم اچھے ہو گئے اور ساری حکومت اس کے قبضہ میں آگئی اور اس طرح ابرہہ یمن کا واحد بادشاہ بن گیا۔جب نجاشی کو یہ خبر پہنچی تو اس پر یہ بات بہت گراں گذری کہ تفرقہ پیدا ہوا اور ایک جرنیل نے دوسرے جرنیل کے خلاف حملہ کیا اور اسے مار دیا۔نجاشی فطرتاً بہت شریف آدمی تھا۔بلکہ خود ابرہہ کے متعلق تاریخی شہادتوں سے یہ امر ثابت ہے کہ وہ بھی بہت حلیم الطبع تھا اور اس نے مکہ کے خلاف جو کارروائیاں کیں وہ جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا محض پولٹیکل وجوہات کی بنا پر تھیں۔بہرحال نجاشی چونکہ شریف بادشاہ تھا اسے یہ خبر ملنے پر بہت رنج ہوا کہ میرے جرنیل آپس میں لڑے اور ان میں سے ایک نے دوسرے کو مار دیا۔چنانچہ اس نے ناراض ہو کر قسم کھائی کہ میں مقتول کا انتقام لینے کے لئے ابرہہ کی پیشانی کے بال کھینچوں گا اور اس کے ملک کو اپنے پاؤں تلے روندوں گا۔پرانے زمانہ میں یہ طریق رائج تھا کہ جب کسی شخص کو ذلیل کرنا مدّ ِنظر ہوتا تھا تو اس کے ماتھے کے بال پکڑ کر کھینچا جاتا۔نجاشی نے بھی قسم کھائی کہ میں ابرہہ کو ذلیل کرنے کے لئے اس کی پیشانی کے بال مونڈ دوں گا۔اور اس کے ملک کو اپنے پاؤں تلے روندوں گا۔یہ بھی ایک محاوہ ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میں اسے شکست دوں گا۔اور اسے دنیا کی نگاہ میں ذلیل اور رسوا کروں گا۔نجاشی نے اپنے دربار میں یہ بات کہی تو ابرہہ کے کسی دوست نے فوراً یہ بات ابرہہ تک پہنچا دی کہ اس طرح بادشاہ نے قسم کھائی ہے کہ میں ابرہہ کی پیشانی کے بال کھینچوں گا اور یمن کا ملک اپنے پاؤں تلے روندوں گا۔ایسا معلوم ہوتاہے کہ نجاشی اس واقعہ کی وجہ سے یمن پر حملہ کرے گا اور آپ کو گورنری