تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 312

اگر دو ہوئے تو ان میں سے ایک دوسرے کا محافظ ہو جائے گا اور اس طرح خرابی پیدا نہیں ہو گی۔گو کسی قوم کے دو بادشاہ ہونا ایک بالکل غیرطبعی چیز ہے۔مگر ان لوگوں میں عرصہ دراز تک یہ بات قائم رہی۔اسی طرح جب وہ کسی جگہ جرنیل بھیجتے تو جرنیل بھی دو دو اکٹھے بھیجا کرتے تھے تاکہ وہ ایک دوسرے کے نگران رہیں اور کوئی شرارت نہ کر سکیں۔میں بتا چکا ہوں کہ جو دو جرنیل یمن بھیجے گئے ان میں سے ایک کا نام اریاط تھا اور دوسرے کا نام ابرہہ بن الصباح۔ابرہہ کی کنیت ابویکسوم تھی اور وہ سفید رنگ کا تھا۔یاد رکھنا چاہیے کہ حبشہ میں دو قسم کی قومیں بستی ہیں ایک کالے رنگ کی اور ایک سفید رنگ کی۔شاہی خاندان سفید رنگ کی نسل میں سے ہے۔اصل میں یہ نوبی قوم کے افراد تھے جن کی پرانے زمانہ میں اتنی زبردست حکومت تھی کہ وہ یورپ اور ایشیا تک پھیلی ہوئی تھی۔جنوبی مصر اور سوڈان یہ نوبیا کا علاقہ ہے۔نوبیا کی حکومت اصل میں عرب تھی اور یہ عرب کے باشندے ہی تھے (A History of Abyssinia vol p:7-9)جنہوں نے پھیلتے پھیلتے حبشہ میں حکومت قائم کرلی۔اسی وجہ سے حبشہ کی زبان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب زمانہ تک عربی ہی کی ڈائے لکٹ DIALECT تھی۔چنانچہ قرآن کریم میں بیسیوں الفاظ ایسے ہیں جو حبشی زبان کے ہیں۔عرب میں بولی جانے والی عربی کے الفاظ نہیں مگر حبشہ کے ساتھ میل جول اور تعلق رکھنے کی وجہ سے عربوں نے ان الفاظ کو اپنی زبان میں داخل کر لیا۔نوبی قوم کے افراد عرب ہونے کی وجہ سے نسبتاً سفید رنگ کے تھے اور ابرہہ کا رنگ بھی سفید تھا۔معلوم ہوتاہے وہ بھی شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہو گا۔یہ دونوں جرنیل ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ یمن پر حملہ آور ہوئے انہوں نے حمیری حکومت سے جنگ کی اور اسے شکست دے کر یمن میں مسیحی حبش حکومت قائم کر دی۔کچھ عرصہ کے بعد دونوں جرنیلوں میں اختلاف پیدا ہو گیا جیسا کہ طبعی طور پر ان دو افراد میں ہوا کرتا ہے جو ایک جیسی طاقت رکھتے ہوں۔اریاط اور ابرہہ میں جب اتفاق نہ ہو سکا تو وہ جنگ پر آمادہ ہو گئے اور اپنے اپنے ڈویژن لے کر ایک دوسرے کے مقابلہ میں صف آراء ہو گئے۔یہ ایک اصول ہے کہ جب قوم میں بیداری اور زندگی ہوتی ہے تو اس کے افراد قومی مفاد کو اپنے ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں اور جب قوم میں تنزّل آجاتا ہے تو اس کے افراد ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دے دیتے ہیں۔ابھی تک حبشیوں میں قومی بیداری موجود تھی چنانچہ جب لشکر ایک دوسرے کے مقابلہ میں صف آراء ہوئے تو دونوں جرنیلوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ لڑائی تو ہماری آپس میں ہے ہم قوم کو کیوں مروائیں اگر ہم نے اسی طرح لڑائی کی تو یمن میں سے نجاشی کی حکومت بالکل جاتی رہے گی۔چنانچہ لڑائی کو ملتوی کر کے ان