تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 311

اناطولیہ سب اس کے تابع تھے۔اسی طرح مصر اور لیبیا اور حبشہ تک کے بادشاہ اس کے ماتحت تھے۔عیسائی لوگ اس وقت بھاگ کر وہیں پناہ لیا کرتے تھے۔جیسے پچھلے زمانہ میں ہندوستان کے مسلمان ٹرکی اور بعد میں افغانستان کے بادشاہ کے متعلق یہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کے مصائب میں اگر کوئی کام آسکتا ہے تو یہی ہیں۔عیسائی بھی اس وقت اپنا ملجاء و ماویٰ صرف قیصر روم کو سمجھتے تھے۔دوس ذو ثعلبان اس وقت بھاگ کر قیصر کے پاس پہنچا۔اس زمانہ میں ایران اور روم کی آپس میں بڑی کثرت سے لڑائیاں ہوتی تھیں(اردو دائرہ معارف اسلامیہ زیر لفظ ساسانیاں) جس کی وجہ سے کئی قیصر سال کا اکثر حصہ شام میں ہی گذارتے تھے۔اس وقت بھی قیصر وہیں تھا۔اس نے قیصر کے پاس پہنچ کر فریاد کی کہ اس قتل عام کا بدلہ لیا جائے۔قیصر روما کی سرحد یمن کے ساتھ نہیں ملتی تھی درمیان میں پانچ چھ سو میل کا ایک آزاد علاقہ تھا اس لئے قیصر روما خود تو کچھ نہیں کرسکتا تھا مگر وہ اتنے عظیم الشان قتل عام کو نظرانداز بھی نہیں کرنا چاہتا تھا چنانچہ اس نے دوس ذوثعلبان کو حبشہ کے بادشاہ کے نام جو اس کے ماتحت تھا ایک چٹھی لکھ کر دی۔حبشہ اور یمن کے درمیان بحیرۂ احمر ہے اور اس زمانہ میں دو تین دن میں کشتیاں ادھر سے ادھر چلی جاتی تھیں۔آج کل کے جہازوں کے لحاظ سے تو یہ سفر چند گھنٹوں کا ہے۔بہرحال اس نے حبشہ کے بادشاہ کے نام چٹھی لکھی کہ اس واقعہ کی طرف توجہ کرو اور جو عیسائی مارے گئے ہیں ان کا بدلہ لو۔اس وقت حبشہ کے بادشاہ نجاشی کہلاتے تھے۔انگریزی میں ان کو نیگسNEGUS کہتے ہیں۔اس وقت جو نجاشی حکومت کر رہا تھا اس کا نام اصحمہ بن بحر تھا۔یہ اسی بادشاہ کا نام ہے جس کے زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور جس کے متعلق تاریخ اور احادیث سے ثابت ہے کہ وہ آخری زمانہ میں مسلمان ہو گیا تھا۔اسی کی زندگی کا یہ واقعہ ہے (اردو دائرہ معارف اسلامیہ زیر لفظ نجاشی) اور اسی کے نام بادشاہ نے چٹھی لکھی کہ دوس ذو ثعلبان کی مدد کرو۔چنانچہ اس نے اپنے دو جرنیل ایک بہت بڑے لشکر کےساتھ یمن بھجوائے۔ان میں سے ایک کا نام اریاط تھا اور دوسرے کا نام ابرہہ بن الصباح اور اس کی کنیت ابویکسوم تھی(تفسیر ابن کثیر سورۃ الفیل )۔یہ سفید رنگ کا تھا۔رومی حکومت اور اس کے ماتحت جو حکومتیں تھیں ان سب میں یہ دستور تھا کہ وہ عام طور پر دو دو جرنیل بھیجا کرتے تھے یہاں تک کہ رومی حکومت میںبعض دفعہ دو ڈکٹیٹر مقرر کئے جاتے تھے۔کلیوپٹرا کا باپ جب مرا ہے تو اس نے اپنے بعد اپنے بیٹے اور بیٹی دونوں کو بادشاہت دے دی تھی۔یہی کلیوپٹرا ہے جس سے روم کے ایک ڈکٹیٹر نے شادی کی(Encyclopedia Brictanica Under word "Cleopatra") اور وہ اسی قضیہ میں مارا گیا۔دراصل وہ دو ڈکٹیٹر یا دو جرنیل اس لئے مقرر کرتے تھے کہ انہیں یہ وہم ہو گیا تھا کہ اگر صرف ایک شخص مقرر کیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ وہ بغاوت کرے لیکن