تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 307
طور پر چلنے کے لئے اصحاب الفیل پر تباہی آئی تھی تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس واقعہ کا کیا تعلق ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی کو پورا کرنے والے تھے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعا مانگی وہ یہ تھی کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ (البقرۃ:۱۳۰) اے ہمارے رب تو اس نسل میں جسے میں مکہ میں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک نبی بھیجیو۔وَابْعَثْ فِيْهِمْ کے معنے ہیں وَابْعَثْ فِیْ اَہْلِ مَکَّۃَ یعنی اے میرے ربّ تو ایک زمانہ میں مکہ کے رہنے والوں میں ایک رسول بھیجیوجو مِنْهُمْ کا مصداق ہو یعنی وہ انہیں میں سے ہو۔یہیں کا باشندہ ہو اور انہیں لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات ہوں۔يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وہ ان اہل مکہ کو تیری آیات پڑھ پڑھ کر سنائے۔وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ اور ان کو تیری کتاب اور حکمت سکھائے۔وَ يُزَكِّيْهِمْ اور ان کو پاک کرے۔اس دعا سے ظاہر ہے کہ یہ رسول مکہ میں آنا تھا۔مکہ کے لوگوں کی اس نے اصلاح کرنی تھی اور مکہ کے لوگوں کو اس نے ایک بڑی قوم بنانا تھا۔بےشک آپؐنے باقی دنیا کی بھی اصلاح کرنی تھی مگر بہرحال ان کا مقام مکہ کے بعد تھا۔تزکیہ کے ایک معنے بڑا بنانے اور ترقی دینے کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے لوگوں کو ایک بڑی قوم بنانا تھا۔اگر خانۂ کعبہ تباہ ہو جاتا تو لازماً مکہ کے لوگ متفرق ہو جاتے اور وہ تلاشِ معاش کے لئے ادھر ادھر پھیل جاتے۔مکہ کے لوگ خانۂ کعبہ کی وجہ سے ہی وہاں بیٹھے ہوئے تھے جس طرح مجاور قبروں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اگر کوئی قبر کسی بادشاہ کے حکم سے مٹا دی جائے تو یہ لازمی بات ہے کہ وہ مجاور جو اس پر بیٹھے ہوئے ہوں گے اور جن کی آمد قبر کے چڑھاوے پر منحصر ہوا کرتی ہے وہ بھی ادھر ادھر چلے جائیں گے۔اور اپنی معاش کے لئے کوئی اور ذریعہ تلاش کریں گے۔اگر خانۂ کعبہ بھی تباہ ہو جاتا تو مکہ کے لوگوں کے لئے گذارہ کی کوئی صورت نہ رہتی اور نہ مکہ والوں کا کوئی ادب اور احترام ان کے دلوں میں باقی رہتا۔گویا ٍخانۂ کعبہ کی تباہی کے ساتھ اوّل تو مکہ والوں کا احترام جاتا رہتا۔لوگ کہتے کہ مکہ والے یوں ہی دعویٰ کرتے رہتے تھے کہ یہ بڑا مقدس مقام ہے۔اگر مقدس مقام ہوتا تو تباہ کیوں ہوتا۔پھر لازمی طور پر وہ متفرق ہو کر ادھر ادھر چلے جاتے اور اس طرح آنے والے موعود کے لئے جو جگہ مقرر تھی وہ بھی جاتی رہتی۔آخر اگر مکہ اجڑ جاتا تو آنے والا موعود کہاں آتا اور وہ آکر کیا کرتا۔اس کے متعلق تو یہ خبر دی گئی تھی کہ وہ مکہ میں آئے گا اور مکہ کے لوگوں میں رہے گا۔یہ خبر اس وقت تک پوری نہیں ہو سکتی تھی جب تک مکہ کو آباد نہ رکھا جاتا۔پس آنے والے موعود کے ظہور اور اس کے کام کی تکمیل کے لئے ضروری تھا کہ خانۂ کعبہ کو قائم رکھا جاتا اور اسی کی