تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 302
متعلق اختلاف ہے۔کسی نے محرم کی پہلی تاریخیں قرار دی ہیں اور کسی نے محرم کی آخری تاریخیں قرار دی ہیں۔اسی طرح کسی نے ربیع الاوّل کی پہلی تاریخ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش بتائی ہے اور کسی نے کوئی اور تاریخ بتائی ہے۔اس اختلاف کی وجہ سے اس امر میں بھی اختلاف ہو گیا ہے کہ یہ واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے کتنے دن پہلے ہوا۔بعض کہتے ہیں اس حملہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش میں پچپن دن کا فاصلہ تھا۔حافظ دمیاتی کا یہی قول ہے۔لیکن سہیلی جو ایک بہت بڑے مؤرخ گذرے ہیں ان کا یہ خیال ہے کہ یہ واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پچاس دن پہلے ہوا ہے اور بالعموم اسلامی مؤرخ اور محدث پچاس دن والی روایت کو ترجیح دیتے ہیں۔پھر اس سے اتر کر بعض نے چالیس دن اور بعض نے تیس دن بھی فاصلہ قرار دیا ہے (تفسیـر روح المعانی زیر آیت ھذا ) مگر کثرت سے مؤرخین سہیلی کی اس روایت کو کہ دونوں واقعات میں پچاس دن کا فاصلہ تھا ترجیح دیتے ہیں۔پس جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے یہ واقعہ پہلے ہوا ہے خواہ تیس دن پہلے ہوا ہو خواہ تیس سال بہرحال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اس لئے تَرَ سے رؤیت قلبی ہی مراد لی جائے گی رؤیت عینی نہیں۔پس اَلَمْ تَرَ کے لفظی معنے یہ ہوئے کہ کیا تجھے معلوم نہیں۔اس فقرہ کے عام طور پر دو معنے ہو سکتے ہیں۔اوّل یہ کہ ہم دوسرے شخص سے پوچھتے ہیں کہ آیا فلاں بات اسے معلوم ہے یا نہیں دوسرے معنے اس قسم کے فقرہ کے یہ ہوتے ہیں کہ تمہیں یہ بات خوب معلوم ہے۔گویا بظاہر نفی کے الفاظ ہوتے ہیں مگر معنے مثبت ہی کے ہیں بلکہ مثبت پر زور دینے کے ہوتے ہیں۔اردو میں بھی کہتے ہیں تمہیں معلوم نہیں میں ایسا کر سکتا ہوں اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایسا کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔گویا اس قسم کا فقرہ بجائے اس کے کہ شک کا اظہار کرے یقین اور وثوق پر دلالت کرتا ہے۔اگر ایسا فقرہ کہنے والا کوئی انسان ہو تو کسی کو شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ آیا اس نے شک کے معنوں میں استعمال کیا ہے یا وثوق کے معنوں میں۔لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق ہم یہ نہیں خیال کر سکتے کہ نعوذ باللہ اس کے قول کا یہ مطلب ہے کہ مجھے تو معلوم نہیں کہ تم کو فلاں واقعہ کا علم ہے یا نہیں تم ہی بتاؤ کہ تمہیں اس کا علم ہے یا نہیں۔پس یہ فقرہ شک کے معنوں میں خدا تعالیٰ کے متعلق استعمال ہی نہیں ہوسکتا۔کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں اور جب وہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں تو اس کی طرف وہ معنے کبھی منسوب نہیں ہو سکتے جن میں شک و شبہ پایا جاتا ہو۔پس اس آیت کے وہی معنے مراد لینے ہوں گے جو یقین اور قطعیت پر دلالت کرتے ہیں۔پس اَلَمْ تَرَ کے لفظی معنے گو یہی ہیں کہ کیا تمہیں معلوم نہیں۔مگر درحقیقت اس کا مفہوم اس جگہ یہ ہے کہ تم خوب اچھی طرح سے جانتے بوجھتے