تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 294
پرسوں یہاں چاند نہیں دیکھا گیا۔اگر کوئی احمدی دوسرے احمدی سے کہہ دیتا کہ کل روزہ ہو گا تو دوسرا فوراً کہتا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔سارے شہر نے تو چاند نہیں دیکھا پھر روزہ کس طرح ہو گیا۔اس پر اگر وہ یہ جواب دیتا ہے کہ میں خلیفۃ المسیح سے سن کر آیا ہوں تو دوسرا ضرور خاموش ہوجائے گا۔کیونکہ وہ سمجھے گا کہ جس انسان کا میرے سامنے نام لیا گیا ہے وہ اتنی بڑی پوزیشن کا ہے کہ وہ غلط بات نہیں کہہ سکتا انہیں ضرور کہیں نہ کہیں سے اطلاع آئی ہو گی۔اسی طرح قرآن کریم میں چونکہ غیر معمولی مطالب آتے ہیں اس لئے ہر سورۃ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بِسْمِ اللّٰهِ رکھ دی ہے یہ بتانے کے لئے کہ تم کہو گے کہ یہ تو غیر معمولی باتیں ہیں ہم کیسے مان لیں کہ اس طرح ہو کر رہے گا۔ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ان خبروں کا بتانے والا کوئی انسان نہیں بلکہ ہم جو زمین و آسمان کے مالک ہیں یہ خبر دے رہے ہیں اس لئے ان خبروں کی سچائی پر تمہیں بہرحال ایمان رکھنا چاہیے۔یہی حکمت ہے جس کی بنا پر ہر سورۃ سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ رکھ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ تم کو اگر اس میں کوئی غیر معمولی یا ناممکن بات نظر آئے یا آئندہ کے متعلق کوئی پیشگوئی ہو جس کا پورا ہونا بظاہر مشکل نظر آتا ہو تو تم اس کو غلط مت سمجھو اس لئے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔یہ کتنا بڑا دعویٰ ہے جو قرآن کریم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔دنیا کی اور الہامی کتب میں سے ہرکتاب الٰہی ہونے کا تو دعویٰ کرتی ہے مگر وہ کتاب کے ہر ٹکڑے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرار نہیں دیتی۔عیسائی خود اپنے ہاتھ سے لکھتا ہے کہ انجیل میں فلاں فلاں بات غلط ہے(Encyclopedia Biblica, Under word "Text and Versions")اور پھر کہتا ہے کہ انجیل خدا کی کتاب ہے اور جب اس سے پوچھا جائے کہ یہ کیا۔ایک طرف تو تم انجیل کی بعض باتوں کو غلط قرار دیتے ہو اور دوسری طرف اسے الٰہی کتاب کہتے ہو تو وہ جواب دیتا ہے کہ انجیل صرف اپنی مجموعی حیثیت میں خدا کی کتاب ہے۔یہ نہیں کہ اس کا ہر ٹکڑا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اسی طرح یہودی اپنے ہاتھ سے لکھتا ہے کہ بائبل کی فلاں فلاں بات غلط ہے اور پھر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ بائبل خدا کی کتاب ہے اور جب اس سے پوچھا جائے کہ وہ کیوں ایسا متضاد دعویٰ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ بائبل بحیثیت مجموعی خدا کی طرف سے ہے یہ نہیں کہ اس کا ہر ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔ہر سورۃ سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ رکھنے کی وجہ اس کے مقابلہ میں قرآن کریم کی یہ کتنی بڑی فضیلت ہے کہ اس نے ہر ٹکڑا سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ نازل کر کے یہ دعویٰ پیش کیا ہے کہ اس کا ہر ٹکڑا میری طرف سے ہے یہ بھی میری طرف سے ہے اور وہ بھی میری طرف سے ہے تا کوئی شخص بائبل یا انجیل کی طرح یہ نہ کہہ سکے کہ فلاں ٹکڑا خدا کی طرف سے نہیں بلکہ نعوذباللہ انسانوں نے اس میں ملا دیا ہے گویا بِسْمِ اللّٰهِ نے قرآن کریم کے ہر ٹکڑے پر مہر