تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 290

چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کا ایک بڑا ذریعہ یہی تھا کہ آپؐ کو عرب قوم مل گئی جس نے قربانی اور ایثار کا وہ نمونہ دکھایا جس کی مثال دنیا کے پردہ پر نہیں مل سکتی۔انہوں نے جس رنگ میں اپنی جانوں کی قربانی پیش کی ہے اس کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی۔اس طرح وہ قوم اسلام کے پھیلنے اور اس کی اشاعت کا ایک ذریعہ بن گئی۔مگر اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔بہرحال خانۂ کعبہ کی بنیاد رکھتے وقت اور اپنی اولاد کو وہاں بساتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی طاقت اور قوت حاصل نہیں تھی اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب یہ خبر دی کہ خدا ایک نبی کو میری اولاد میں مبعوث کرے گا جو دنیا کے لئے مرجع ہو جائے گا اور جب انہوں نے دعا کی کہ الٰہی دنیا کے چاروں طرف سے لوگ یہاں آئیں اور حج کریں اور عبادت اور ذکر الٰہی میں اپنا وقت گذاریں اور تیرا نام بلند کریں اور تسبیح و تحمید کریں تو کیاا نہیں طاقت حاصل تھی کہ وہ لوگوں کو کھینچ لاتے۔وہ تو خود اپنی بیوی اور بچے کو وہاں مرنے کے لئے چھوڑ گئے تھے انہوں نے کسی اور کو کیا لانا تھا مگر پھر خدا نے مکہ کی آبادی کے کیسے سامان کئے اور ان کی دعا کو کس حیرت انگیز رنگ میں پورا فرمایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب واپس چلے گئے تو چند دنوں کے بعد پانی ختم ہو گیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام پیاس کی شدت سے تڑپنے لگے ماں سے اپنے بچہ کی حالت دیکھی نہ گئی تو انہوں نے صفا و مروہ پر چڑھ کر دیکھنا چاہا کہ شاید ادھر ادھر کوئی آدمی نظر پڑ جائے اور وہ ان کے لئے پانی کا انتظام کر دے یا پانی کا کچھ پتہ دے مگر وہاں آدمی کہاں؟ آخر جب بہت بے تاب ہو گئیں تو انہیں کسی کی آواز سنائی دی۔اس پر انہوںنے بلند آواز سے کہا اے خدا کے بندے تو جو کوئی بھی ہے میں تجھے قسم دیتی ہوں کہ اگر تجھے پانی کا پتہ ہے تو مجھے بتا کیونکہ میرا بچہ پیاسا مر رہا ہے اس کے جواب میں اس آواز دینے والے نے کہا۔ہاجرہ میں خدا کا فرشتہ ہوں جا اور دیکھ کہ خدا نے اسماعیلؑ کے قدموں کے نیچے پانی کا ایک چشمہ پھوڑ دیا ہے۔چنانچہ وہ آئیں اور انہوں نے دیکھا کہ واقعہ میں زمین میں سےایک چشمہ پھوٹ رہا ہے۔یہی چشمہ زمزم کہلاتا ہے اور اسی تبرّک کی وجہ سے لوگ اس کا پانی دور دور لے جاتے ہیں بلکہ بعض لوگ وہاں اپنا کفن لے جاتے اور زمزم کے پانی سے گیلا کر کے لے آتے ہیں۔پھر جُرہم قبیلہ وہاں سے گذرا اس قبیلہ کے آدمی چونکہ اسی راستہ سے یمن میں تجارت کے لئے جاتے تھے اور پانی نہ ملنے کی وجہ سے ان میں سے بعض مر جاتے تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ یہاں پانی موجود ہے تو انہوں نے خواہش کی کہ یہاں ایک درمیانی پڑاؤ بنا لیا جائے چنانچہ جُرہم قبیلہ کا رئیس حضرت ہاجرہؓ کے پاس آیا اور اس نے درخواست کی کہ ہمیں یہاں بسنے کی اجازت دی جائے ہم آپ کی رعایا بن کر رہیں گے۔حضرت ہاجرہؓ نے اس کی اس درخواست کو منظور فرما لیا اور اس طرح وہ ایک درمیانی پڑاؤ بن گیا جہاں جُرہم قبیلہ کے اور بھی کئی لوگ رہنے لگ گئے۔رفتہ رفتہ