تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 286
بڑے دولتمند تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کر دیا۔پس تمہارا یہ خیال کر لینا کہ چونکہ ہمارے پاس بڑی دولت اور مال ہے اس لئے ہم تباہ نہیں ہو سکتے غلط ہے۔خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں اگر تم کھڑے ہو گے تو ضرور کاٹے جاؤ گے۔اس کی تلوار کے سامنے بڑا اور چھوٹا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔سب کے سب تباہ ہو جاتے ہیں۔وہ دشمن ایک ایسے گرجا کو بچانے کے لئے مکہ پر حملہ آور ہوا تھا جس میں جابجا قیمتی پتھر لگے ہوئے تھے۔سنگِ مرمر کا اس میں کام کیا گیا تھا۔دور دور سے انجینئر اس کی تعمیر کے لئے منگوائے گئے تھے۔سونے کا پانی اس پر پھروایا گیا تھا اور نہایت قیمتی پتھر اس میں جڑوائے گئے تھے۔اس کے مقابلہ میں ظاہری قیمت کے لحاظ سے خانۂ کعبہ کی کیا حیثیت ہے۔اگر ظاہری قیمت کو دیکھا جائے تو اس کے مقابلہ میں اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں۔پس تم اگر دولت کا گھمنڈ کرتے ہو تو اس گرجا کے بنانے والوں کے پاس زیادہ دولت تھی مگر جب وہ بھی خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں آئے تو تباہ ہو گئے۔سورۃ الفیل کا سورۃ ہمزہ سے پانچواں تعلق پانچواں قریبی تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ بعض لوگ یہ اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ اگلے جہان کے عذاب سے لوگوں کو ڈرانے کا فائدہ کیا ہے؟ پہلی سورۃ میں فرمایا گیا تھا کہ كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ۔نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ۔الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ۔اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ۔فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ (الھمزۃ:۵تا۱۰) میں بتا چکا ہوں کہ ان آیات میں خصوصیت سے اس دنیا کے عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔مگر اس کے ظاہری معنے چونکہ یہی نظر آتے ہیں کہ اگلے جہان میں کفار پر اس رنگ میں عذاب نازل ہو گا۔اس قسم کی آیات پر کفار شور مچا دیا کرتے ہیں کہ اگلا جہان تو کسی نے دیکھا نہیں۔پس تم اگلے جہان کے عذابوں کا ذکر کر کے درحقیقت لوگوں کو دھوکا دیتے ہو اور ایک ایسی بات پیش کرتے ہو جس کی تصدیق اس دنیا میں نہیںہو سکتی۔جیسے اب تک بھی یوروپین مصنف یہی اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے اگلے جہان کے عذابوں سے ڈرا ڈرا کر لوگوں کو مسلمان کر لیا (The Encyclopedia of Religion And Etheics, Under Word Ethics and Morality)۔یہی عرب لوگ کہتے تھے کہ قرآن کریم ایسے عذابوں کی خبر دیتا ہے جو اس جہاںسے تعلق نہیں رکھتے وہ صرف ایسے عذابوں کا ذکر کرتا ہے جو اگلے جہاں سے تعلق رکھتے ہیں اور اگلا جہان ہم نہیں مانتے پھر ہم ان باتوں کو کس طرح درست تسلیم کر لیں۔اس کے جواب کے لئے قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ جہاں وہ کسی اخروی عذاب یا انعام کا ذکر کرتا ہے وہاں کسی نہ کسی دنیوی عذاب یا انعام کا ضرور ذکر کرتا ہے یہ بتانے کے لئے کہ تم اخروی عذاب یا انعام یا نتیجہ کے متعلق تو کہہ سکتے ہو کہ ہم ان باتوں کو کس طرح مان لیں یہ تو اگلے جہان سے تعلق رکھتی ہیں۔مگر تم دنیوی امور کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتے اس لئے ہم اخروی عذابوں یا انعاموں